حامد میر نے جنگلات ترمیمی بل کو پنجاب دشمنی قرار دے دیا
حامد میر کا جنگلات ترمیمی بل پر بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافی حامد میر نے جنگلات ترمیمی بل کو پنجاب دشمنی قرار دے دیا۔ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا " اس سے بڑی پنجاب دشمنی کیا ہو سکتی ہے؟ جنگلات ترمیمی بل 2026 کے ذریعے جنگلات کو کاٹ کر ہاؤسنگ سکیموں اور دیگر تعمیرات کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ بل محکمہ جنگلات نہیں لایا جو قانون کے بھی خلاف ہے، پنجاب میں جنگلات پہلے ہی کم ہیں مزید کم ہو جائیں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: چھ ماہ میں مرجاؤ گے؛ ڈاکٹر کی وارننگ نے عدنان سمیع کی زندگی بدل دی
بل کی تفصیلات
واضح رہے کہ 26 جنوری کو یہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ ’’فاریسٹ (ترمیمی) بل 2026‘‘ کا مقصد صوبے میں قومی اہمیت کے منصوبوں کے لیے قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں خصوصاً معدنیات کے شعبے کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے 112 ارب روپے کے فنڈز منظور
قانون کی شقیں
بل کے متن کے مطابق یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اسے فاریسٹ (ترمیمی) ایکٹ 2026 کہا جائے گا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت فاریسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 27 میں نئی شق شامل کی جا رہی ہے جس کے ذریعے حکومت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت یا ان کے زیر انتظام یا کنٹرول کسی ادارے، اتھارٹی یا ایجنسی کے قومی اہمیت کے کسی منصوبے کی صورت میں کسی محفوظ جنگل یا اس کے کسی حصے کو مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت ’’غیر محفوظ‘‘ قرار دے سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم کے گندم کے کھلیان کو نامعلوم افراد نے آگ لگا دی
مزید ترامیم
اسی طرح دفعہ 34-اے میں بھی ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی منصوبہ قومی اہمیت کا ہو اور اسے وفاقی یا صوبائی حکومت یا ان کے زیر کنٹرول ادارے شروع کریں تو حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی محفوظ شدہ جنگل یا اس کے کسی حصے کو مقررہ شرائط کے ساتھ ’’غیر محفوظ شدہ‘‘ قرار دے سکے۔
سرکاری بیان
بل کے ساتھ منسلک اغراض و مقاصد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں معدنیات کے شعبے کو موجودہ جنگلاتی قوانین اور بعض متصادم قانونی شقوں کے باعث شدید عملی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے معدنی وسائل کے حصول اور معدنیات پر مبنی صنعتوں کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کے مطابق مجوزہ ترامیم کے ذریعے قومی اہمیت کے منصوبوں، بالخصوص ریگولیٹڈ مائننگ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی راہ ہموار کی جائے گی، جبکہ یہ عمل حکومت کی طے کردہ شرائط و ضوابط کے تحت ہوگا تاکہ معاشی ترقی اور جنگلات کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔








