جھوٹ، خوشامد کا کلچر، تعصب، تنگ نظری، توہمات اور عدم برداشت کے سائے دور کیے جا سکتے ہیں،ہماری قوم مثالی معاشرے کے قیام کی حامل بن سکتی ہے۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 314
قوم کی تقدیر اور وحدت
اس طرح ہماری قوم صرف اللہ اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یقین و ایمان رکھنے والی اور صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والی قوم بن سکتی ہے۔ فرقہ پرستی سے بتدریج نجات مل سکتی ہے، جھوٹ اور خوشامد کا کلچر، تعصب، تنگ نظری، توہمات اور عدم برداشت کے سائے دور کیے جا سکتے ہیں۔
قرآن مجید کی اہمیت
قرآن مجید پوری انسانیت کیلئے ہدایت، نور اور رحمت پر مشتمل صراط مستقیم ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کے ذریعے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے کردار کی تربیت کی اور اُس دور کے بہترین انسان پیدا کیے جو دیکھتے دیکھتے دنیا پر چھا گئے اور انہوں نے 700 سال تک دنیا پر حکومت کی۔
پاکستان کی حالت
آج پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا قرآن سے دوری اور ملائیت کے زیر اثر ہونے کے باعث کردار کی پستیوں اور فرقہ پرستی جیسی خرافات میں کھو گئی ہے اور ماڈرن علوم سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ قرآن اور تمام ماڈرن علوم سے اپنا رشتہ استوار کر کے ہی ہم دین و دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
آئیے ایک نئی شروعات کریں
آئیں! ہم پاکستان میں ایسے مثالی معاشرہ کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کر دیں اور پاکستان دشمن عناصر کی، وطن عزیز کو کمزور کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ تن سرگرم عمل ہو جائیں۔
کھلا خط
بنام عزت مآب جناب عمران خان صاحب، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان
السلام علیکم!
اخبارات میں آپ کے شائع ہوئے ایک بیان میں آپ نے دوہرے تہرے نظامِ تعلیم، نصاب تعلیم کی بجائے ملک بھر کے سکولوں میں ایک نصاب، یکساں نصاب نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میں سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے آپ کے اس بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔
نصاب کی بہتری کی تجویز
آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام اور عزم صمیم پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ایک نصاب کے نفاذ سے آپ ایک دیرینه عوامی مطالبے کی پذیرائی کا شرف حاصل کریں گے اور چند مافیاز کے علاوہ تمام محب وطن عوامی حلقے آپ کے اس مثبت اقدام میں انشاء اللہ آپ کے ساتھ ہوں گے۔
تعلیمی تبدیلی کی درخواست
سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے ہماری آپ سے یہ اپیل ہے کہ سکولنگ کو 10 سالہ کے بجائے بارہ سالہ کر دیا جائے اور ملک بھر کے تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ سکولز میں بتدریج اخلاقیات، اقبالیات، اردو، انگریزی، میتھ، سائنس، جغرافیہ، تاریخ ہندو پاکستان، اسلامی تاریخ اور ٹیکنیکل مہارتوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلمان بچوں کے لیے پرائمری کلاسز میں مذہبی تعلیم کے نام پر قرآن ناظرہ اور ہائی کلاسز میں مسالک سے پاک قرآنِ مجید باترجمہ کی تدریس کو لازمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
قوم کی کردار سازی
اسی طرح دیگر مذاہب کے بچوں کے لیے اگر اُن کی تعداد کلاس میں پانچ یا پانچ سے زیادہ ہو اُن کی مذہبی کتابوں کی تدریس کا اہتمام کیا جائے۔ اردو قومی زبان کو ذریعہ تعلیم، عدالتی و دفتری سرکاری زبان اور اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لیے ذریعہ امتحان کے طور پر اپنایا جائے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں جاری و ساری کیا جائے۔
ختم کلام
ملک و قوم کے لیے آپ کی شبانہ روز کاوشوں کی کامیابی کے لیے دعا گو۔
رانا امیر احمد خاں (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)
صدر سٹیزن کونسل آف پاکستان
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








