مضبوط سہارا مل گیا، میری اجڑی ہوئی دنیا پھر سے بس گئی،نہر کنارے اوندھے منہ لیٹے محمد رفیع کے گانے سن رہے تھے کہ ”جن بھوت“ آڑے آگئے
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 65
ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک مضبوط سہارا مل گیا۔ میری اجڑی ہوئی دنیا پھر سے بس گئی۔ میں نے بھی اپنے آپ کو ٹھیک ٹھاک رکھنے کے لیے اللہ کی مہربانی سے کوشش جاری رکھی۔ روزانہ ورزش کے علاوہ بالوں کا Dye کرنا بھی اِسی کاوش کا ایک حصّہ تھا۔ گیپ کم کرنے کی ایک کوشش تھی جو کسی حد تک کامیاب رہی۔
بیگم کا کردار
میری دوسری بیگم نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ بچّوں کی پڑھائی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پھر اُن کی شادیوں کی نوبت آئی تو ہر شادی بڑے ہی احسن طریقے سے کی۔ کبھی یہ کوشش نہ کی کہ اس میں فلاں آئٹم کم کر کے پیسوں کی بچت کرلیں۔ نہ نہ! میرا دماغ کبھی بچت کی جانب ضرور ہوتا تھا لیکن اُس نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر ہی شادیوں کی تقریبات منعقد کروائیں۔
ذاتی خرچے کی کیفیت
باقی رہا…… اُن کا اپنا ذاتی خرچہ، کپڑوں کا خرچہ، زیور کی ڈیمانڈ، تو بھائی وہ تو ایک اللہ کی گائے نکلی…… نہ کپڑے لتّے پر نہ ہی اپنی ذات پر نہ فضول زیورات پر خرچہ کیا۔ وہ ان سب خرچوں کے بغیر ہی مطمئن و مسرور نظر آئیں۔ کبھی ماتھے پر شکن ساری زندگی میں نے نہ دیکھا۔ بچّوں کی شادیوں کے بعد اُن کے بچّوں کی پیدائش پر ہر طرح کے چاؤ…… لین دین…… کبھی موقع نہ دیا کہ کوئی انگلی اٹھائے کہ اب کنارہ کش ہوگئی ہے۔
نئے سفر کی شروعات
اگلا ”سوئل سروے“ کا پڑاؤ جڑانوالہ شہر سے لاہور کی جانب واقع نہر گوگیرہ برانچکے ”ڈاؤن سٹریم“ ایک کینال ریٹ ہاؤس چھوڑ کر دوسرے کینال ریسٹ ہاؤس میں تھا۔ میں دو تین دن کی ”فرلو“ پر اپنے والدین سے ملنے اپنے گاؤں چندیاں تلاواں نزد فیصل آباد گیا ہوا تھا۔ میری غیرحاضری میں میرا دوسرا ساتھی کام کو جاری رکھّے ہوئے تھا۔
سفر کی داستان
میں جڑانوالہ میں بس سے اُتر کر بس اڈے پر ایک ٹانگہ والے سے ریسٹ ہاؤس تک جانے کے لیے بھاؤ تاؤ کرنے لگا۔ سفر تقریباً 15 میل تھا اور وہ کرایہ 20 روپے طلب کررہا تھا۔ میری تنخواہ جو مبلغ 169/- روپے ماہوار تھی۔ مجھے ایک جھٹکا سا لگا اور میں نے 10 روپے کرایہ کی آخری آفر کردی لیکن وہ منہ موڑ کر دوسری جانب چل گیا۔
بھٹوں کا مزہ
وہاں ساتھ ہی ایک نوجوان مکئی کے بھٹے دہکتے کوئلوں پر رکھے دعوت نظاّرہ دے رہا تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً 4 عدد بھُٹے اُن سے ہی اُترے پردوں میں لپیٹ کر پیدل چل پڑا۔ ایک بھُٹا کھا کر وقفہ کر لیتا اور پھر دوسرے کی باری آجاتی۔ آخر چوتھا بھٹہ بھی دانتوں کے چکّر سے گھوم گھما کر انتڑیوں میں جا گھسا۔
خوشیوں کے لمحے
سوئل سروے کی نوکری اور بھرپور جوانی۔ کیا مجال جو دل چھوٹا ہو کوئی پریشانی ہو، محمد رفیع کے گانے گاتے، 2 گھنٹے میں پاؤں میں جوتوں سے چند ”آبلے“ بنا کر ریسٹ ہاؤس جا پہنچا۔
کیفیت کا اظہار
دفتر سے ملا باورچی جو حاضر ہوا تو کچھ کھانے پکانے کی بات چھیڑی تو میں نے جو پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ٹٹولا تو مکئی کے دانے ابھی انتڑیوں کی بھول بھلیوں میں سرگرداں نظر آئے۔ اُس کو ہلکی سی ڈانٹ پلائی اور بے وقت کی راگنی فرمانے سے منع فرمایا۔
گانے کا شوق
شام کو کھانے پر بیٹھے خوش گپیّوں کے دوران بات محمد رفیع کے گانوں تک جا پہنچی جو اُس وقت اپنے کیرئیر کی بلندیوں کو چھُو رہا تھا۔ ہم جوانی کے بے رحم شکنجے میں جکڑے اکثر اُس کے گانے گنگناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ہماری خوش قسمتی ہی کہیے کہ ہمارا ایک ”بیلدار نُورا“ جو فیلڈ ڈیوٹی کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا۔ بلا کا سُریلا تھا۔ اُس کو اکثر بلا کر گانے سنتے۔
خوابوں میں کھو جانا
وہ گانا گاتے مٹی کے گھڑے پر انگلیوں کے زور سے دباؤ ڈال کر موسیقی پیدا کرتا اور اپنے گانوں کو دو آتشہ کرتا۔ چنانچہ ایک دن ہم نے فیصلہ صادر کردیا کہ دن ڈھلے نہر کنارے کپڑے بچھا کر لیٹ جایا کریں اور نُورا اپنی سریلی آواز کو گھڑے کی موسیقی سے ملا کر دو آتشہ کرتا رہے گا تو ہم نہر کنارے سر سبز و شاداب، نرم گھاس پر بچھائے کپڑوں پر اُوندھے منہ لیٹے دور کہیں خوابوں، خیالوں میں کھو جاتے۔ یہ معمول جاری و ساری تھا کہ ایک دن ”جن بھوت“ آڑے آگئے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








