بھائی جی اپنا کام کراؤ اتھے جان دی کیڑی گل اے
مصنف کی آراء
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 446
بھائی جی کام کراؤ شکایت مت کرو؛
یہ بھی پڑھیں: قیام پاکستان کی تحریک کا حصہ ہونے پر فخر ہے،1947ء میں ہجرت کے بعد ملکی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع ملنا اللہ کی خاص عنایت ہے.
مرکزی اقدامات اور ان کے نتائج
میرے اقدامات اور غلط کاموں میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان اداروں میں visible improvement نظر آنے لگی تھی اور سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ اگر کوئی سائل بلدیات کے کسی دفتر میں بھی جائز کام کے لئے جاتا اور کوئی سرکاری اہل کار اس میں بلاجواز رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا تو سائل اتنا ہی کہتا کہ میں ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو شکایت کروں گا۔ عام طور پر اہل کاروں کا جواب ہوتا؛ “بھائی جی اپنا کام کراؤ اتھے جان دی کیڑی گل اے۔” میں سمجھتا ہوں اس نظام میں جہاں ہر طرف مافیاز کا راج ہے، یہ بڑی کامیابی تھی۔ مافیاز کے ساتھ لڑنے کے لئے حوصلہ، جرأت اور ٹیم چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کی ٹکر لگنے پر مشتعل افراد کا سینئر اداکار راشد محمود پر تشدد
منڈی میں تبدیلیاں
گوجرانوالہ میں ہی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ پنجاب بھر کی مویشی منڈیاں ختم کرکے ان کی جگہ کیٹل مارکیٹ کمپنیاں بنا دی تھیں۔ برا نہ لگے تو یہ ملک بھی ایک کمپنی ہی ہے یا کمپنی کی طرح ہی چلایا جا رہا ہے۔ یہ مویشی منڈیاں ٹی ایم ایز کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھیں۔ ہر ضلع کے لئے ایک ماڈل مارکیٹ قائم ہونا تھی۔ اس کمپنی اور مارکیٹ کمیٹیوں کا چیئرمین افضل کھوکھر ایم این اے کو بنایا گیا۔ پہلے پنجاب بھر کی ساری مارکیٹ کمیٹیاں ان کے ماتحت کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: پلازہ میں آتشزدگی سے پولیس اہلکار سمیت 2 افراد جھلس کر زخمی
خارجہ پالیسی اور حکمرانی
اس ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی یہی سقراط طے کرتے ہیں، اور اس ملک میں کون حکمرانی کرے گا یہ افلاطون طے کرتے ہیں۔ کاش حمود الرحمان رپورٹ میں نامزد لوگوں کو سزائیں دے دی جاتیں تو اس ملک کے حالات بہت بہتر ہوتے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا، کبھی بڑا سوال تھا، اب بندھ چکی ہے تو آواز دور تک سنائی دے رہی ہے۔ کہاوت ہے "ہاتھ سے لگائی گانٹھیں منہ سے ہی کھولنی پڑتی ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: لبنان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل
فوج اور قوم کا تعلق
فوج کے جوانوں اور سلطانوں کی قربانیوں سے انکار نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم ان کی تنخواہیں برداشت کرتی ہے، سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مغربی فوجی دستے یوکرین میں تعینات ہوئے تو ہدف ہوں گے۔۔۔پیوٹن کی دھمکی
دو مثالیں
میں اپنے مؤقف کی دلیل کے حق میں دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ پہلی؛ بہاول پور تعیناتی کے دوران ایم ڈی (منیجنگ ڈائریکٹر) چولستان ڈولپمنٹ اتھارٹی جاوید اقبال نے چولستان کے مسائل پر بریفنگ دینی تھی۔ اس بریفنگ سے 2 روز قبل وہ شام کو کمشنر بہاول پور محمد خاں کھچی کے کیمپ آفس آئے اور اس بریفنگ کے بارے آگاہ کرتے ہوئے کہا؛ "سر! چولستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی تقریباً ایک لاکھ ایکٹر زمین پر قبضہ ہے۔ اب دیکھیں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔" میٹنگ کے بعد وہ واپس آئے تو کمشنر نے ان سے پوچھا؛ "جاوید! کیسی رہی آپ کی بریفنگ؟" انہوں نے جواب دیا؛ "سر! بریفنگ شروع ہوتے ہی بولے؛ 'بس کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں۔ میں بہت مصروف ہوں۔' میں نے انہیں سب سے بڑے مسئلے کی نشاندہی کی تو سن کر خاموش ہو گئے اور پھر بولے؛ 'کوئی اور مسئلہ۔' میں نے جواب دیا؛ 'نہیں سر۔' کہنے لگے؛ 'ٹھیک آپ جا سکتے ہیں۔' اسی ایک بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
یاد رہے
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








