افغانستان، پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری
پاکستان کی فضائی کارروائی
اسلام آباد، کابل (ویب ڈیسک) پاکستان نے گزشتہ شب افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی، جس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ بی بی سی اردو نے بتایا کہ پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے اور پانچ افراد کی تاحال تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مادھوری نے اپنا دفتر 3 لاکھ روپے کرائے پر دے دیا، سیکیورٹی ڈیپازٹ کتنا لیا؟ جان کر یقین نہ آئے
ہلاک شدگان کی تدفین
رپورٹ کے مطابق، گذشتہ رات ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں ایک گھر پر پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے۔ مزید پانچ افراد کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی
افغان حکام کا دعویٰ
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ رات بہسود کے علاوہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔ اسی طرح پکتیکا کے برمل اور ارگون میں بھی حملے ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سابق افغان صدر کا ردعمل
دوسری طرف افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاگو ہوں۔ افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب رویہ اپنائے۔"








