گرین ٹریکٹر سکیم سے زرعی لینڈ سکیپ تبدیل ہو رہا ہے، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب کا گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا افتتاح
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے قرعہ اندازی کا آغاز کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے باعث صوبے کا زرعی لینڈ سکیپ تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کی صدر زرداری سے اہم ملاقات، پاک افغان کشیدگی پر بات چیت
کامیاب کسانوں کو مبارکباد
وزیر اعلیٰ کے مطابق گزشتہ 25 برس میں 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ صرف 2 سال کے دوران پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے 31 ہزار ٹریکٹر فراہم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے کاشتکاروں کو مبارکباد دی اور بعض خوش نصیب کسانوں کو خود فون کر کے خوشخبری سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار کو سیالکوٹ میں احتجاجی ریلی کے دوران گرفتار کر لیا گیا
کاشتکار حمزہ لیاقت کی خوشی
بہاولپور کے کاشتکار حمزہ لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرعہ اندازی میں آپ کا ٹریکٹر نکل آیا ہے، مبارک ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور آئندہ بھی کسان دوست پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ماں ڈوبتے بچوں کو بچانے کی کوشش میں ان کے ساتھ جاں بحق
پروگرام کی تفصیلات
صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے تیسرے مرحلے کے لیے 5 ایکڑ اراضی کے 4 لاکھ 27 ہزار مالک کاشتکاروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں ملک میں ٹریکٹروں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے مکمل قیمت پر ٹریکٹر خریدنا مشکل ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کی تیاریاں، 23 اہم شاہراہوں کو بسنتی رنگوں سے سجایا جائے گا
زرعی مشینری پر توجہ
بریفنگ کے مطابق 2024 میں پنجاب حکومت نے زرعی مشینری کے استعمال پر خصوصی توجہ دی، سکیم کے پہلے 2 مراحل میں 21 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے۔
پنجاب میں ٹریکٹر کی کمی
حکام نے بتایا کہ پنجاب میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر صرف 140 ٹریکٹر موجود ہیں، جو دیگر ممالک کے تناسب سے 50 فیصد سے بھی کم ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی زرعی معیشت میں ٹریکٹر سب سے اہم مشینری ہے اور اس سکیم سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے.








