جو ایک فیصد طلباء اعلیٰ تعلیم کیلیے باہرجاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن پوری قوم کے بچوں پر ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جانا قرین عقل نہیں ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 315
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مائیکل بریسویل ٹی 20 ورلڈکپ سے باہر ہوگئے
سیمینار کی تفصیلات
پاکستان میں تمام سکول ہائے سسٹم کیلئے ایک نصاب کیوں اور کیسے کے موضوع پر 10 اگست 2019ء کو ہمدرد فاؤنڈیشن ہال میں منعقدہ سیمینار میں تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک واضح تعلیمی پالیسی اور بارہ سالہ سکولنگ کے لیے ایک نصاب ترتیب دیں۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کو 2027 تک ٹیسٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھے جانے کا قوی امکان
یکساں تعلیمی مواقع
ہمارا مقصد ہے کہ تمام بچوں کے لیے یکساں مواقع پیدا کیے جائیں اور انہیں متحارب طبقات میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک قومی دھارے میں لایا جائے تاکہ تعلیمی شعبے میں موجود ناہمواریوں اور ناانصافیوں کو ختم کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو ایک قوم بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے مغربی حصے میں زلزلہ
سیمینار کی صدارت
سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے منعقدہ سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق جالندھری نے کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مسائل پر ماضی کی حکومتوں نے کماحقہ توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے ہم ترقی کی دوڑ میں پورے جنوبی ایشیاء میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیئے
تعلیمی پالیسی کی اہمیت
وطن عزیز میں متضاد نظام ہائے تعلیم اور طبقاتی کشمکش کو فروغ دینے کے باعث تعلیمی پالیسی کا نئے سرے سے تعین لازمی ہے تاکہ نظریہ پاکستان اور ہماری اقدار کے مطابق طلباء کی کردار سازی ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: تاجک وزیرِ دفاع کا جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات
نصاب کی بہتری
معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ سکولوں کے نصاب میں افکارِ قائد، اقبالیات، قرآن کی تدریس اور جدید علوم پر زور دینا ہوگا۔ زبان دانی کے لحاظ سے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی تدریس کو معیاری بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان کے اندھے قتل کا معمہ حل ، ملزم گرفتار
حکومت کی ذمہ داریاں
حکومت کا فرض بنتا ہے کہ قوم کو درپیش تعلیمی مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ تعلیمی سہولیات کو پاکستان کے ایک ایک بچے تک پہنچانے میں حکومتی سطح پر کم بجٹ اور بڑھتی ہوئی آبادی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال کے باعث فیصل آباد میں میٹرک کے امتحانات ملتوی
سیمینار کا آغاز
سیمینار کا آغاز فاروق اکرم صابری نے قرآن کی تلاوت سے کیا۔ سٹیج سیکرٹری ظفر علی راجا نے اپنا ایک نعتیہ شعر نذرِ سامعین کیا:
کسی کا فیض رہا ہے کہاں صدی بہ صدی
فقط حضورؐ ہیں رحمت فشاں صدی بہ صدی
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے پہلے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا
اختتامی کلمات
پروفیسر سلمان احمد خان نے ایک انگریزی نظم سنائی، اس کے بعد سٹیزن کونسل آف پاکستان کے صدر رانا امیر احمد خاں نے ابتدائی کلمات حاضرین کی خدمت میں پیش کیے اور سیمینار کی اہمیت کی وضاحت کی۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








