شہزاد اکبر نے پی ٹی آئی دورحکومت میں فارن پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کرلیا
عمران خان کے دور حکومت میں فارن پالیسی پر تنقید
لندن (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے پی ٹی آئی دور حکومت میں فارن پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فارن پالیسی صرف نعرے تھے، کچھ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خیرپور: طالبہ سے زیادتی ثابت، 3 مجرمان کو 25-25 سال قید
سفیر تعیناتی کا مشورہ
شہزاد اکبر نے بتایا کہ کچھ امریکی دوستوں نے اپنے ملک میں ایک سفیر لگانے کا مشورہ دیا، تو میں نے علیمہ خان کا نام تجویز کیا۔ عمران خان نے جواب دیا کہ "آپ کا دماغ ٹھیک ہے، یہ کیا بے وقوفانہ نظریہ ہے" اور اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بِٹ کوائن مائننگ اور اے آئی کو بجلی فراہمی پر آئی ایم ایف کا اظہار تشویش، حکومت سے وضاحت طلب
امریکی دوستوں کی ملاقات
اینکر پرسن معید پیرزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے امریکی دوستوں نے کہا کہ "آپ کو دنیا جانتی ہے لیکن امریکی ریاستوں میں آپ کو کوئی نہیں جانتا، آپ کو اپنا بندہ سفیر لگانا چاہیے"۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کا وار: صرف 5 گھنٹے میں بھارتی غرور دفن کردیا، دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
سفیروں کی تعیناتی کا عمل
شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا کہ سفیروں کی تعیناتی مقتدرہ اپنی مرضی سے کرتی ہے۔ جب تعیناتی کا وقت آتا ہے، تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ جاتے ہیں۔ "نوازشریف اور زرداری پرانے لوگ ہیں، سب جانتے تھے لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا اور ہم نے غلطی کی"۔
علیمہ خان کا نام تجویز کرنا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میں نے علیمہ خان کا نام تجویز کیا، تو عمران خان نے کہا کہ "یہ کیا بے وقوفانہ نظریہ ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ علیمہ خان ایک سمجھدار، پڑھی لکھی خاتون ہیں اور ادارہ چلاتی ہیں، مگر ان کی صرف یہی "خطا" ہے کہ وہ عمران خان کی بہن ہیں۔
عمران خان کے امریکا سے کچھ دوست آئے اور کہا کہ امریکا میں آپ کو اپنا بندہ سفیر لگانا چاہیے کیونکہ وہاں کی اسٹیٹ میں آپ کو کوئی نہیں جانتا۔ اور جب اس حوالے سے مشاورت ہوئی تو ہم نے انہیں کہا کہ علیمہ خان کو سفیر لگایا جائے تو عمران خان نے کہا یہ کیا بیوقوفانہ آئیڈیا ہے، شہزاد اکبر pic.twitter.com/WRvsTCoPhz
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) February 23, 2026








