سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی ناممکن، واجبات 1 ارب 95 کروڑ روپے تک پہنچ گئے
راولپنڈی میں دوائوں کی فراہمی کا مسئلہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات فراہم کرنے کا اعلان عملی طور پر نافذ کرنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ ادویات کے لیے مختص بجٹ ناکافی ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے سے خریدی گئی ادویات کی مد میں وینڈرز کے بقایا جات بڑھ کر 1 ارب 95 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نازیبا تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والا خطرناک گروہ بے نقاب، ایک ملزم کوئٹہ سے گرفتار
مالی سال 2024-25 کی صورتحال
ٹربینون نے ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ مالی سال 2024-25 میں ادویات کی خریداری کے 55 کروڑ روپے کے واجبات موجود تھے، جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ بقایا جات مزید بڑھ کر 1 ارب 40 کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کو دنیا کی نمبر ون لیگ بنانا چاہتے ہیں، نئی بڈ اوپن اور شفاف ہوگی: محسن نقوی
باقی ایڈز کی تفصیلات
اعداد و شمار کے مطابق ہولی فیملی اسپتال پر 80 کروڑ روپے، بینظیر بھٹو جنرل اسپتال پر 35 کروڑ روپے اور راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال پر 25 کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کا پول کھل گیا، اپنے عوام کو اتنا بے وقوف بنایا کہ بالآخر بھارتی بھی بول پڑے
ہولی فیملی اسپتال کی مالی حالت
یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہر کے سب سے بڑے ہولی فیملی اسپتال (1052 بستروں اور 25 آپریشن تھیٹرز پر مشتمل) کو عمران خان کے دورِ حکومت میں ادویات کے لیے 60 کروڑ روپے کا بجٹ ملتا تھا، جس میں بعد ازاں کمی کر دی گئی۔
مالی سال 2024-25 کے لیے اسپتال نے 1 ارب 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا، مگر صرف 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ 2025-26 میں 1 ارب 50 کروڑ روپے کی طلب کے مقابلے میں محض 38 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ موجودہ مالی سال میں بھی 2 ارب روپے کی طلب کے باوجود صرف 38 کروڑ روپے ہی مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 9 خوارج ہلاک
بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کی مشکلات
اسی طرح شہر کے دوسرے بڑے بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کو 2024-25 میں 38 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ اس وقت 33 کروڑ روپے کے بقایا جات موجود تھے۔ 2025-26 میں اسپتال کو 40 کروڑ روپے ملے، جبکہ 80 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں۔ اس میں سے 7 کروڑ روپے دیگر مد سے ادا کیے گئے، تاہم 33 کروڑ روپے بدستور واجب الادا ہیں۔ موجودہ مالی سال کے لیے 1 ارب 25 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا، مگر صرف 38 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال کی صورتحال
راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ادویات کی شدید قلت کے باعث سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی، او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز، آئی سی یوز، کریٹیکل کیئر یونٹس اور وارڈز میں مریضوں کی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔








