انٹرمیڈیٹ میں تمام تر مضامین قومی زبان اردو میں پڑھائے جائیں، اس طرح ہر طرح کا نصاب اردو میں ترجمہ ہونا شروع ہو جائے گا
مصنف کی تفصیلات
مصنف: رانا امیر احمد خان
قسط: 316
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر انتقال کرگئے
تقریب کا آغاز
سب سے پہلے مقرر پروفیسر نصیر چوہدری نے پورے پاکستان میں شعبہ تعلیم سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ جن پر راز کھلا کہ پاکستان کے زیادہ تر بچے سکولوں میں جا ہی نہیں رہے اور جہالت کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے کل خیبر پختونخوا ہاؤس میں پورے پاکستان سے ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، تنظیمی اور تمام ونگز کے سینئر عہدیداران کا اجلاس طلب کرلیا
پرائیوٹ سکولوں کی حقیقت
ثروت روبینہ جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، انہوں نے پرائیوٹ سکولوں کی لوٹ مار کو آشکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی براستہ بٹھنڈہ
تعلیمی نظام کی خامیاں
پروفیسر فرح زیبا نے تعلیمی نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا، جبکہ کرنل (ر) مقصور مظہر راٹھور سابق ایڈمنسٹریٹر دبستان اقبال لاہور نے ایک ایسا زبردست مقالہ پڑھا جس کو حاضرین نے زبردست داد دی۔
یہ بھی پڑھیں: کہتے ہیں انگریز بہت دور کی سوچتا ہے، پْلوں کی تعمیر کا کام جاری ہی تھا کہ ریل گاڑیوں کی بوگیوں اور اسٹیم انجنوں کو ہندوستان پہنچانا شروع کردیا۔
پروفیسر اشتیاق احمد کا مقالہ
یہ مقالہ پروفیسر اشتیاق احمد (گورنمنٹ انٹر کالج خانیوال) نے تحریر کیا تھا لیکن وہ اچانک طبیعت خراب ہونے کے باعث تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔ ان کا یہ مقالہ پروفیسر ڈاکٹر راشدہ قریشی (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج رائے ونڈ) نے تقریب میں پڑھ کر سنایا۔
اہم نکات
یہ مقالہ تو بہت طویل تھا، لیکن ہم ان نکات کو بیان کریں گے جو قومی سطح پر اہمیت کے حامل ہیں۔ پروفیسر اشتیاق احمد کا تحریر کردہ مقالہ پڑھتے ہوئے ڈاکٹر پروفیسر راشدہ قریشی نے ایک طویل مضمون پڑھا، جس میں پندرہ نکات بیان کئے گئے تھے۔ ان کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:
- پہلی سے پانچویں جماعت تک صرف دو کتابیں ہوں، پہلی اردو اور دوسری ریاضی کی ہو۔
- معاشرتی علوم، اسلامیات، جغرافیہ اور دیگر علوم کی بابت مضامین سادہ اور آسان اردو میں پہلی کتاب میں شامل ہوں۔
- ریاضی کی کتاب میں جمع تفریق اور ضرب تقسیم کی بنیادی مہارتیں شامل کی جائیں۔
- چھٹی سے آٹھویں جماعت میں اردو اور ریاضی کے ساتھ ایک تیسری کتاب سائنس کی ہو۔
- انگریزی یا کوئی دوسری زبان لازمی طور پر نافذ نہ کی جائے، بلکہ انگریزی کو آپشنل پڑھایا جائے۔
- نویں اور دسویں جماعت میں اردو اور ریاضی کی لازمی حیثیت کے ساتھ طبیعیات، کیمیا، حیاتیات اور کمپیوٹر کے آسان فہم کورس پڑھائے جائیں۔
- ان مضامین کے ساتھ آرٹس کے تمام مضامین شامل کئے جائیں۔
- گیارہویں اور بارہویں جماعت میں اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام سائنسی اور غیر سائنسی مضامین اردو میں پڑھائے جائیں۔
- انٹرمیڈیٹ میں بھی تمام تر مضامین قومی زبان اردو میں پڑھائے جائیں۔
- بی ایس سی اور ایم ایس سی کے تمام تر کورسز فوری طور پر اردو میں تیار کئے جائیں۔
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








