پورے 12 سال زرعی اور صحرائی خطّوں کی قدم بوسی کی، یہ کوئی قصّہ ہیر رانجھا، شیریں فرہاد یا لیلیٰ مجنوں نہیں، پیٹ کے ہاتھوں مجبور گریجوایٹ کی کہانی ہے۔

مصنف کا تعارف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 69

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستان کی رسائی اب ‘اگر مگر’ اور نیوزی لینڈ کی شکست سے مشروط

ماسٹر عبد الغفور کی کہانی

اِس کی وجہ کچھ یہ تھی کہ میرے ایک دُور کے رشتہ دار ”ماسٹر عبد الغفور“ صاحب تاش کے بڑے رسیا تھے۔ سکول سے آ کر بس اُن کو جلد از جلد اپنے تاش کے اڈے پر پہنچنا ہوتا تھا اور ساتھ سگریٹ نوشی نے انہیں دمے کا مریض بنا دیا۔ ایک دفعہ اُن کے ہاں ایک مہمان آئے جو کہ ہمارے بھی جاننے والوں میں سے تھے۔ وہ ایک دن اُن کو لے کر ہمارے ہاں آئے۔ صحن میں چارپائیاں پڑی تھیں۔ وہیں پہ بیٹھ گئے۔ ہمارے مشترکہ عزیز نے بیٹھے بیٹھے سگریٹ سلگایا تو وہ ماسٹر صاحب کو بھی سگریٹ سلگانے کا کہنے لگا۔ تو وہ کہنے لگے کہ سگریٹ منہ میں ڈال کر ماچس کی تیلی جلا کر سگریٹ کو دکھاتا ہوں لیکن آگ نہیں پکڑتی، کیونکہ سانس اندر کھینچا نہیں جاتا۔ پھیپھڑے "Choak" ہوچکے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ زیادہ بیمار پڑ گئے۔ اُن کے ایک برخوردار بیرون ملک تھے، وہ اُن کے لیے باہر سے دمہ کی دوائی اور سانس لینے میں دشواری دور کرنے کا آلہ بھی بھیجتے رہے۔ کچھ افاقہ ہوا لیکن تین چار سال ہی نکال سکے۔ آخری دنوں میں جب ہم اُن کی بیمار پُرسی کے لیے جاتے تو وہ ہم سے گذارش کرتے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں وہ مجھے اس عذاب سے نجات دے …… اس کے کچھ ہی دیر بعد وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کراچی دشمن رویہ ترک کرے، ۳۱ اگست کو ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کریں گے : حافظ نعیم الرحمان

سگریٹ نوشی سے وابستگی

مندرجہ بالا انکشافات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں سگریٹ نوشی سے کنارہ کش ہوجاتا۔ لیکن سگریٹ کو گلے لگائے رکھّا۔
پورے 12 سال پنجاب اور سندھ کے زرعی اور صحرائی خطّوں کی قدم بوسی۔ یہ کوئی قصّہ ہیر رانجھا، شیریں فرہاد یا لیلیٰ مجنوں نہیں۔ یہ تو پیٹ کے ہاتھوں مجبور ایک سائنس گریجوایٹ کی کہانی ہے جس نے اپنی روزی روٹی کے چکّر میں لاہور میں بیٹھ کر سہل پسندی سے نوکری کرنے کی بجائے باہر کھلی فضاؤں، گرم موسم کی حشر سامانیوں، ٹھٹھرتے جاڑوں کے تھپیڑوں کو گلے لگانا پسند کیا اور پھر کبھی کچھ مُڑ کر نہ دیکھا۔ اس نے ایک لگن سے سہل و کٹھن حالات کو خندہ پیشانی سے گلے لگایا اور قدم آگے سے آگے ہی بڑھتے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ؛ پچ کو لیونگ روم کی قالین جیسا قرار دیتے ہوئے، سابق انگلش کرکٹر کی تنقید

سروے کی تفصیلات

یاد رہے کہ ہم صرف ان علاقوں کا سروے کرنے جا رہے تھے جہاں یا تو "Soil Solimity" اور یا "Soil Solinity and Water Logging" دونوں مسائل کی نشاندہی ہو رہی ہو۔ کیونکہ امریکن ایڈ سے واپڈا میں بننے والی گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن قائم کرنے کا مقصد یہی تھا کہ پتہ چلایا جائے کہ کہاں کہاں سیم اور تُھور کثرت سے پایا جاتا ہے۔ اور اِس کی کونسی قسم ہے۔ دوسرے زیر زمین پانی کی سطح کا بھی تعین کیا جائے کہ آیا زیر زمین پانی کی گہرائی تسلّی بخش ہے یا پانی اوپر آگیا ہے اور ساتھ ہی نمکیات اوپر لا کر سطح زمین کو شور کلر زدہ اور پھر کلراٹھی بنا رہا ہے۔ اس لیے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ہم ان دی ہوئی گائیڈ لائنز کے مطابق اُن علاقوں کے سروے کرتے تھے جہاں یہ مسائل تھیں ورنہ دوسرے سر سبز و شاداب علاقوں کی ورق گردانی سے ہمیں کوئی سروکار نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل (ر) باجوہ کے خلاف نہ تو کوئی تحقیقات ہو رہی ہیں اور نہ ہی کوئی کارروائی زیرِ عمل ہے، انصار عباسی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ

پارٹی لیدرشپ اور شیدا کی کہانی

اس کام پر مامور دوسری بھی تین چار فیلڈ پارٹیاں تھیں۔ میرا پہلا پڑاؤ بطور پارٹی لیڈر ضلع گوجرانوالہ کے علاقہ کامونکی میں تھا جس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔
ہمارے ساتھ عبد الرشید عرف ”شیدا“ بھی بطور ”ریسرچ اسسٹنٹ“ ملازمت کرنے لگا۔ اُسے شاید یہ ملازمت پسند نہ آئی یا کوئی اور وجہ تھی کہ اُس نے پولیس میں بھرتی کے لیے بطور اے ایس آئی کی اسامیاں نکلنے پر درخواست دے دی۔ پوری تفصیل کا تو علم نہیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر یا کسی سفارش پر سوار ہو کر بطور اے ایس آئی سلیکٹ ہوگیا اور ٹریننگ کے بعد اپنے پرانے ہمجولیوں سے ملنے ایک دن آگیا۔ اُس کی بطور اے ایس آئی تقرری پر سب نے اُسے مبارکباد دی لیکن ساتھ ہی اُسے ایک پارٹی دینے کا حکم صادر فرما دیا۔ اب ”شیدا“ کچھ سوچ میں پڑا لیکن جلد ہی سنبھلا اور کہنے لگا۔ ٹھیک ہے اگلے اتوار کو لکشمی چوک میں ”بٹ“ کے ہاں دعوت کا اہتمام ہوگا، سب دوست دفتر کی چھٹی کے بعد تشریف لے آئیں۔

اب جو اِس دعوت شیراز میں ہوا وہ ”ایہہ تہاڈا مال اے“ کے عنوان سے لکھا گیا ملاحظہ کیجئے گا۔ (جاری ہے)

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...