اسلام آباد ہائی کورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر رکاوٹ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس میں حکام کے خلاف کارروائی کے فیصلے پر اپیل کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی ملک بدری کی پالیسی پر فیصلہ سُنا دیا
عدالت کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کیخلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور دیگر افسران کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی کا امریکی میزائلوں کا متبادل، فضا سے فضا میں مار کرنے والے “گوک توغ” میزائلوں کے کامیاب تجربات
عدالت میں جہد
جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا؟ کیا تعین ہوگیا تھا کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے کہا کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا، عدالت میں لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے بھی دیئے تھے کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے حبس بیجا کے کیس میں افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری ہے، حبس بیجا کے کیس میں ہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی، افسران کی انٹراکورٹ اپیل ہائی کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی۔
سماعت کا حالیہ فیصلہ
بعدازاں آئینی عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری ساجد الرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا。








