مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی قیادت کی عدم گرفتاری پر جج برہم
انسداد دہشت گردی عدالت میں صورتحال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج نے مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی قیادت کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو پاکستان دیوالیہ ہو جاتا: اسحاق ڈار
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر درج کیسز پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ڈرونز نئی دہلی پہنچ گئے، بڑی کارروائی کا دعویٰ
جج کی برہمی
جج طاہر عباس سپرا نے مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی قیادت کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 17 ہزار ملزمان ہیں اور ابھی تک 500 کے لگ بھگ ملزمان کا چالان آیا ہے، بس غریب ملزمان کا چالان پیش کر دیا گیا، اہم ملزمان گھوم پھر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، سعودی معاہدہ مسلم ممالک میں اتحاد کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے: حافظ نعیم الرحمان
پولیس کی کارکردگی پر سوالات
عدالت نے کہا کہ اشتہاری ملزمان کل بھی ہائیکورٹ میں تھے کبھی سپریم کورٹ ہوتے ہیں، ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا؟ کیا پولیس سلیکٹو لوگوں کا چالان پیش کر رہی ہے؟ پولیس ریکارڈ واپس گیا تو کیا پراسکیوشن نے پوچھا ہے؟ کیا پولیس کو نہیں پتا کون کون ان مقدمات میں اشتہاری ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ہر آدمی کے ذاتی معالج ہوتے ہیں، عمران خان کے ڈاکٹرز کو بھیج دیا جاتا تو سارے غبارے سے ہوا نکل جاتی، محمود خان اچکزئی
عدالت کی تشویش
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ کیا پولیس اور انتظامیہ ہماری سوئی پڑی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اشتہاری ملزمان سرعام اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں، بس سلیکٹو لوگوں کا چالان پیش کرنے سے ہی کام خراب ہونے کی ابتداء ہوتی ہے۔
آئندہ سماعت کی تاریخ
عدالت نے 26 نومبر احتجاج کے مقدمہ نمبر 544 میں ایس ایچ او اگلی سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی۔








