آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 7 برس مکمل، ایئر ہیڈ کوارٹرز میں خصوصی تقریب، دشمن کے برتری کے زعم کو توڑ کر دفاعی توازن بحال کیا: سربراہ پاک فضائیہ
اسلام آباد میں خصوصی تقریب
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کے 7 برس مکمل ہونے پر ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یاسمین راشد نے 9 مئی کے 3 مقدمات میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کردیں
پاک فضائیہ کا مؤثر جواب
پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے مطابق، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاکستان باوقار امن کا خواہاں ایک ذمہ دار ملک ہے۔ 7 سال قبل دشمن نے تاریکی میں پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کر کے غلط اندازہ لگایا۔ پاک فضائیہ نے مؤثر جواب دے کر دشمن کے برتری کے زعم کو توڑ کر قابلِ اعتماد دفاعی توازن بحال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگل میں کھڑی لاوارث کار سے 52 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے برآمد
جدید جنگی صلاحیتوں کی شمولیت
ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ کے دیئے گئے مؤثر جواب نے برتری کے زعم کو توڑ دیا۔ 2021ء سے مالی دباؤ کے باوجود، پاک فضائیہ کی جامع جدید کاری اور انڈیجینائزیشن کا عمل جاری ہے۔ جدید جنگی اور معاون صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، جبکہ بغیر پائلٹ سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر، اسپیس اور سائبر اثاثے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مقامی سطح پر تیار کردہ ملٹی ڈومین کِل چین قائم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی پاکستانی طیارہ نہیں گرا…فیک نیوز واچ ڈاگ نے بھارت کا طیارہ گرانے کا دعویٰ سیاسی بیان قرار دیدیا
مئی 2025ء کا معرکۂ حق
ایئر چیف نے اپنے خطاب میں مئی 2025ء کے معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے اس دوران مکمل ملٹی ڈومین آپریشنز پہلی بار کامیابی سے انجام دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: سنجے منجریکر نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی ‘نو ہینڈ شیک’ پالیسی کو احمقانہ قرار دے دیا
مقامی طور پر تیار کردہ صلاحیتوں کا مظاہرہ
انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ نے عددی برتری رکھنے والے دشمن کے خلاف دفاعی قوت کا عملی مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ کو نیکسٹ جنریشن ایئر فورس میں تبدیل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق آپریشنل ڈاکٹرائن ازسرنو ترتیب دی گئی ہے۔ مقامی طور پر تیار بغیر پائلٹ فضائی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتیں فعال ہیں۔
کثیرالجہتی آپریشنل صلاحیتیں
خلیج اور سائبر وسائل کے مؤثر استعمال سے کثیرالجہتی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔








