پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان جاری کشیدگی پر حماس کا بیان آگیا
حماس کا پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی پر بیان
دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان جاری کشیدگی پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے طالب علموں کے لیے خصوصی پیکج کی منظوری دے دی
تشویش اور مذاکرات کی ضرورت
حماس نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فلورملزایسوسی ایشن کے حکومت پنجاب سے مذاکرات کامیاب، رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کا عندیہ دیدیا
عوامی مفادات کی اہمیت
جیو نیوز کے مطابق، حماس نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جو چیزیں آپس میں جوڑتی ہیں، وہ کسی بھی عارضی اختلاف سے زیادہ اہم ہیں۔ اس لیے دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ اپنائیں اور قومی مفادات کو مقدم رکھیں، تاکہ اختلافات کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
امن و استحکام کی ضرورت
حماس نے مزید کہا کہ امن و استحکام کے قیام اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت جب اسرائیلی ریاست غزہ میں اپنے جرائم کے بعد عالمی تنہائی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے، مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
اسلامی ممالک کی باہمی تعاون کی ضرورت
یہ وقت اسلامی ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ موجودہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔








