کچھ ناگوار لمحوں کے باوجود ٹیم ورک بہترین تھا، ہم نے ہزاروں اپیلوں کے فیصلے کیے 2دن تک لگاتار جاگتے رہے۔48 گھنٹے مسلسل کام کرنا آسان نہ تھا۔

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 452

یہ بھی پڑھیں: لاہور : قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کے لیے 15 لاکھ ماحول دوست بیگ تیار

فیصلے کے جھمیلے

فیصلے لکھنے کے لئے ہمارے پاس 7 دن تھے۔ کمشنر نے ایک روز سارے ڈی سی اوز کو بھی بلا لیا حالانکہ اس روز ان افسران کا کوئی کام نہ تھا۔ ڈی سی اوز نے آپس میں چہ میگو ئیاں شروع کر دیں کہ فیصلے ڈی سی اوز لکھیں گے اور دستخط ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کرے گا۔ میڈیا کے نمائندے بھی جمع تھے۔ ڈی سی اوز کی باتیں سن کر اور حالات کی نزاکت دیکھ کر میں اندازہ کر سکتا تھا اگر ایسا ہی رہا تو گڑ بڑ ہو جائے گی اور کمشنر آفس کی بدنامی اور شرمندگی ہو گی۔ ڈی سی او گجرات اور گوجرانوالہ چاہتے تھے کہ کچھ ایسا ہو اور ملبہ کسی پر گر جائے۔ اچھا ماتحت وہی ہوتا ہے جو اپنے باس سے مخلص ہو۔ میں کمشنر کے پاس گیا اور ان سے علیٰحدہ بات کرتے کہا؛”سر! بہت سے اخباری نمائندے ہمارے دفتر میں موجود ہیں اور سارے ڈی سی او کی موجودگی میں یہ قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ فیصلے ڈی سی او سے لکھوائے جانے ہیں جبکہ کام کمشنر کا ہے۔ سر! میرا خیال ہے ڈی سی اوز کو واپس اپنے اپنے ہیڈ کوارٹرز جانے کا کہتے ہیں اور جب فیصلے لکھ لیں گے تو ان سب کو بلا کر ان کے حوالے کردیں گے اور باقی کا کام رولز کے مطابق وہ خود ہی کریں گے یعنی ان فیصلوں کی روشنی میں حتمی حلقہ بندی کی تجاویز محکمہ بلدیات کو بھجوائیں تاکہ حلقہ بندی کا نو ٹیفیکیشن جاری ہو سکے۔“ کمشنر میری تجویز سے متفق ہوئے۔ تمام ڈی سی اوز کو ان کے ہیڈ کوارٹر روانہ کر دیا جبکہ ہم فیصلوں کی تیاری میں لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2300 روپے کا بڑا اضافہ

محنت کی انتہا

دن رات ایک کرکے میں اور میری ٹیم نے فیصلے کمشنر کی منشاء کے مطابق تحریر کئے۔ رات 9 بجے ان کے دفتر جاتا وہ اپنے نوٹس کو دیکھ کر فیصلوں کو پڑھتے۔ ان کی یاد داشت بھی بلا کی تھی۔ انہیں اس حد تک یاد ہوتا کہ اپیل کا کیا فیصلہ تھا اور اگر انہوں نے کوئی درستگی لگائی ہوتی تو فقرے میں کہاں ”کوما“ اور کہاں ”فل سٹاپ“ تھا۔ فیصلوں پر وہ دستخط کرتے اور متعلقہ اسسٹنٹ ڈائر یکٹر کو اپیلوں کا فیصلے شدہ سر بمہر لفافہ حوالے کیا جاتا جو اگلی کارروائی کے لئے اپنے ڈی سی او کے پاس لے جاتے تھے۔ 95 فی صد لکھے فیصلے درست ہی تھے جبکہ 5 فی صد پر معمولی درستگی دوبارہ کرنا پڑی۔ اس محنت طلب کام میں میرے لولیگز نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ تمام ڈی سی اوز اور اے سی صاحبان نے بھی بھر پور تعاون کیا تھا۔ یہ اہم اسائنمنٹ اچھے انداز میں انجام پائی تھی۔ شکر الحمد اللہ۔

چallenges and Teamwork

کچھ ناگوار لمحوں کے باوجود ہمارا ٹیم ورک بہترین تھا کہ ہم نے ہزاروں اپیلوں کے فیصلے کئے۔ 2 دن تک لگاتار جاگتے رہے۔ 48 گھنٹے مسلسل کام کرنا آسان نہ تھا۔ اگر باس بھی ساتھ بیٹھا تھکاوٹ کا اظہار کئے بغیر کام کر رہا ہو تو باقیوں میں بھی ہمت آ ہی جاتی ہے۔ 6 اضلاع کے افسران کے ٹیم ورک کی یہ بھر پور مثال اور ڈیوٹی سے لگن تھی۔ اس دوران سٹریس کی وجہ سے میری طبیعت بھی خراب ہوئی۔ مجھے 1122 کی سروس سے سول ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں کمشنر بھی موجود تھے اور بہترین طبی امداد پہنچائی گئی تھی۔ کمشنر ہسپتال پہنچے۔ مجھے ان کے الفاظ ابھی بھی یاد ہیں جو انہوں نے ایم ایس سول ہسپتال سے کہے تھے؛ ”ایم ایس صاحب! اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ضروری ادویات آپ کے پاس ہیں اگر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کوئی دوائی دستیاب نہ تھی تو میں سخت ایکشن لوں گا۔“ یہ ان کی اپنے افسران کے لئے محبت اور concern تھا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...