ذ را مڑ کر ایک نظر جوانی کے بھرپور خط و خال پر تو ڈالیں۔ دل ناداں کے ہاتھوں بے بس و مجبور۔ لکھ چکے قصۂ فراق و غم جو جواب نہ لائے تو نامہ بر کا قصور؟
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 71
ہم تقریباً سبھی غیر شادی شدہ تھے اور نا تجربہ کار بھی۔ لیکن ہم میں غلام شبّیر نہ صرف شادی شدہ تھا بلکہ ایک عدد ایسی اُس کی ”بیاہتا“ فرینڈ بھی تھی۔ جس کے ساتھ اُس کا ایک ناقابلِ یقین معاہدہ بھی ہوچکا تھا۔ یہ معاہدہ دنیا میں پہلا اور آخری معاہدہ ہوسکتا ہے۔ اِس معاہدے کے اندر ہمیں بھی ایک دفعہ فیلڈ میں جھانکنے کا موقع ملا جب غلام شبیر چند دن کی چھٹی سے واپس فیلڈ ڈیوٹی کے لیے واپس ریسٹ ہاؤس جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے پہنچا تو اُس کے ساتھ اُس کی سہیلی بھی تھی۔ پوچھا تو کہنے لگا بس صرف دو تین دن ہی ٹھہرے گی۔ ہمارے تو پاؤں تلے سے زمین ہی سِرک گئی کہ دفتر میں اِس کی خبر ہوگئی تو سب کی نوکریاں ختم۔ بڑی ہی منت سماجت سے غلام شبیر کو راضی کیا اور اُس کی سہیلی کو ریلوے اسٹیشن سے گاڑی میں بٹھا کر آئے۔
غلام شبیر کا اصرار
شیدا اے ایس آئی تو جلد ہی چلتا بنا۔ لیکن غلام شبیّر کے اصرار پر ہم سب اُدھر جا کر اُس ٹانگے کی اگلی طرف کھڑے تھے جس کی پچھلی نشست پر ایک ”خاتون“ بیٹھی تھی۔ غلام شبیر نے آگے ہو کر نہ جانے کیا کہا کہ ٹانگے والے نے اُونچی آواز سے کہا ”بادشاہو! ایہہ مال تہاڈا اے۔“ ہم سبھی یہ سُن کر شرم کے مارے غلام شبیر کو پیچھے کھینچنے لگے تو کوچوان بولا۔
”پلّے نہیں دھیلا…… کردی میلا میلا“
گوجرانوالہ کی جانب رخصتی
وہاں سے غلام شبیر کو تو اسٹیشن کیلئے ٹانگہ پر بٹھایا کہ وہ گوجرانوالہ واپس چلا جائے اور ہم دفتر میں واپس آگئے جہاں ہم دفتر کی پچھلی طرف عارضی طور پر رہائش رکھّے ہوئے تھے۔
بیمار آفیسر کی خبریں
شام کو باقی ساتھی تو اِدھ اُدھر چلتے بنے۔ میں نے سوچا چلو سُنا ہے کہ ہمارے آفیسر سخت بیمار ہیں اُن کی بیمار پُرستی کے لیے چلتے ہیں۔ اکیلے یہاں بیٹھے رہنے کا کوئی تُک نہیں تھا۔ چنانچہ کچھ پیدل کچھ ٹانگہ سے مال روڈ پر جی پی او چوک میں ٹانگہ سے اُتر کر پیدل پنجاب یونیورسٹی کی طرف مال روڈ پر چلتے اگلے ہی چوک میں دائیں انار کلی کی طرف مُڑ کر فٹ پاتھ پر چلنے گا۔ ابھی چند قدم ہی اُٹھائے ہونگے کہ پیچھے سے ایک صاحب پرانے سے موٹرسائیکل پر سوار میرے قریب بریک لگا کر اگلی طرف جاتی ایک برقعہ پوش لڑکی کی طرف اِشارہ کر کے پوچھنے لگے …… ”بادشاہو! ایہہ تُہاڈا مال اے؟“ یہ بات سُن کر میری زبان نے تو میرا ساتھ نہ دیا اور نہ چلی۔ غالباً میرا ہاتھ کچھ اس طرح اُوپر لہرایا کہ جس کا مطلب یہی نکلتا ہو کہ ”نہ بھئی نہ“ …… یہ ہاتھ کا اشارہ پاتے ہی اُس نے موٹر سائیکل آگے بڑھائی اور اُس برقعہ پوش لڑکی کے پاس بریک لگائی اور آدھا منٹ بھی نہ لگا کہ وہ اُس کو اپنے ساتھ بٹھا کر چلتا بنا۔ میں انگشت بدنداں سوچتا رہ گیا۔ کہ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟
افسروں کے پاس چڑھتا ہوا دن
مجھے بالکل اُسی جگہ سے سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر کی منزل میں اپنے آفیسر کی بیمار پُرسی کے لیے جانا تھا۔ میں اُوپر چڑھتا گیا اور میرے منہ سے کچھ بُڑ بُڑانے کی آوازیں نکلیں کہ خدا خیر کرے کہ آج ”کیسا دن چڑھا ہے کہ سارے لاہور شہر کا مال ہمارے نام ہی لکھا جانے لگا ہے؟“
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








