ہم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، افغانستان سے جنگ پر زلفی بخاری کا اعلان
زلفی بخاری کا جنگ کے بارے میں مؤقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے کہا ہے کہ جنگ، خصوصاً کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ، ہمیشہ آخری آپشن ہونی چاہیے کیونکہ حتیٰ کہ جنگ بندی کے بعد بھی اس کے اثرات سرحد کے دونوں جانب بسنے والے عوام طویل عرصے تک بھگتتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصادم کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخیاں نسلوں تک منتقل ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا، پولیس حدود تنازع پر لاش کی گھنٹوں تک بےحرمتی۔
دفاعی اقدام کا حق
زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہمسایہ ملک مسلسل دہشت گردی برآمد کرے اور مبینہ طور پر کسی دوسرے مخالف ہمسائے بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو تو ایسی صورتحال میں کسی بھی ریاست کے پاس اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعے میں ناقص کارکردگی پر متعدد افسران کو معطل
مسلح افواج کا ساتھ
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ان کے مطابق وطن کے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان سے اپیل
زلفی بخاری نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی ایجنڈے کا حصہ بننے سے گریز کرے جو خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی کشیدگی میں الجھنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرے تاکہ پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔








