شرح خواندگی کم ہونے کی بنیادی وجہ انگریزی ہے، طلباء کی بڑی تعداد دل برداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے، نصاب اردو زبان میں تبدیل کریں
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 321
یہ بھی پڑھیں: ثناء یوسف کا “قاتل رینٹ پر فورچونر گاڑی لے کر فیصل آباد سے اسلام آباد آیا، خود کو لینڈ لارڈ کا بیٹا بتاتا اور گاڑی کا۔ ۔ ۔” تہلکہ خیز دعویٰ
سیمینار کے شرکاء
سیمینار کے دیگر شرکا میں ظفر علی راجہ، احمد وسیم، ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر انوار بگوی، جنرل راحت لطیف، الطاف قمر، ایم اکرام چوہدری اور راقم بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان کے تحت راولپنڈی پولیس کی کامیاب حکمتِ عملی، مختلف مقدمات میں 94 مجرمان کو قرار واقعی سزائیں
اردو زبان کی اہمیت
شرکاء نے اردو زبان کی اہمیت اور افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی قومی زبان ہی اس ملک کی ترقی کی ضامن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی کم ہونے کی بنیادی وجہ انگریزی نظامِ تعلیم ہے، جس سے طلباء کی بڑی تعداد دل برداشتہ ہو کر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف نے وہ کر دکھایا جو کبھی کوئی نہ کر سکا، فیصل واوڈا
تعلیمی اصلاحات کی ضرورت
ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے اپنا نصاب انگریزی سے اردو زبان میں تبدیل کریں۔ البتہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کو بھی میٹرک تک لازمی پڑھایا جائے لیکن اس میں پاس ہونا ضروری نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخاب میں جیت ،عوام نے انتشار کی بجائے ترقی و خوشحالی کے حق میں فیصلہ سنادیا: وزیرِاعظم
سی ایس ایس امتحان میں چیلنجز
ملک کے سب سے بڑے امتحان سی ایس ایس میں بھی طالبعلموں کی بڑی تعداد صرف انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے امتحان پاس نہیں کر پاتی، جو کہ طلباء اور ملک کے مستقبل کے لیے سنگین لمحہ فکریہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں سے مسلم امہ کے جذبات مجروح ہوئے: انجینئرامیر مقام
پریس ریلیز اور قراردادیں
تعلیمی پسماندگی نظام تعلیم کی خامیوں اور بہتری کی تجاویز کے ضمن میں درج ذیل قراردادیں پاس کی گئیں۔(رپورٹ مرتبہ حفصہ افضل)
قرارداد (1)
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام تعلیمی پسماندگی، نظام تعلیم کی خامیوں اور بہتری کی تجاویز سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ آج تک جتنی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئی ہیں، کسی بھی پالیسی پر مؤثر عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔
قرارداد (2)
ملک بھر میں پرائیویٹ سکول تعلیم کو ترویج ِ علم کے بجائے کاروباری فروغ کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس رحجان پر قانونی پابندی عائد کرنا قرینِ انصاف ہے۔
سیمینار کی صدارت
سیمینار کی صدارت نامور ماہر تعلیم و اقتصادیات ڈاکٹر رفیق احمد نے کی، جبکہ دیگر خطاب کرنے والوں میں پروفیسر سلمان اے خان، پروفیسر احسان ملک، پروفیسر نصیر چوہدری، پروفیسر فرح زیبا، ثروت روبینہ، کوکب اقبال ایڈووکیٹ، صدر سٹیزن کونسل رانا امیر احمد خاں اور ظفر علی راجا کے نام شامل ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








