شرح خواندگی کم ہونے کی بنیادی وجہ انگریزی ہے، طلباء کی بڑی تعداد دل برداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے، نصاب اردو زبان میں تبدیل کریں
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 321
یہ بھی پڑھیں: شادی ہر مسئلے کا حل نہیں، لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلنا بند کریں : وسیم بادامی
سیمینار کے شرکاء
سیمینار کے دیگر شرکا میں ظفر علی راجہ، احمد وسیم، ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر انوار بگوی، جنرل راحت لطیف، الطاف قمر، ایم اکرام چوہدری اور راقم بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ نے فیصل کریم کنڈی کو نتھیہ گلی گورنر ہاؤس استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔
اردو زبان کی اہمیت
شرکاء نے اردو زبان کی اہمیت اور افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی قومی زبان ہی اس ملک کی ترقی کی ضامن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی کم ہونے کی بنیادی وجہ انگریزی نظامِ تعلیم ہے، جس سے طلباء کی بڑی تعداد دل برداشتہ ہو کر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دیدی
تعلیمی اصلاحات کی ضرورت
ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے اپنا نصاب انگریزی سے اردو زبان میں تبدیل کریں۔ البتہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کو بھی میٹرک تک لازمی پڑھایا جائے لیکن اس میں پاس ہونا ضروری نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ کی 3 ملوں پر چھاپے، گندم کی ساڑھے 17 ہزار بوریاں برآمد کرلی گئیں
سی ایس ایس امتحان میں چیلنجز
ملک کے سب سے بڑے امتحان سی ایس ایس میں بھی طالبعلموں کی بڑی تعداد صرف انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے امتحان پاس نہیں کر پاتی، جو کہ طلباء اور ملک کے مستقبل کے لیے سنگین لمحہ فکریہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور انڈیا فائنل کھیلیں گے
پریس ریلیز اور قراردادیں
تعلیمی پسماندگی نظام تعلیم کی خامیوں اور بہتری کی تجاویز کے ضمن میں درج ذیل قراردادیں پاس کی گئیں۔(رپورٹ مرتبہ حفصہ افضل)
قرارداد (1)
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام تعلیمی پسماندگی، نظام تعلیم کی خامیوں اور بہتری کی تجاویز سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ آج تک جتنی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئی ہیں، کسی بھی پالیسی پر مؤثر عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔
قرارداد (2)
ملک بھر میں پرائیویٹ سکول تعلیم کو ترویج ِ علم کے بجائے کاروباری فروغ کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس رحجان پر قانونی پابندی عائد کرنا قرینِ انصاف ہے۔
سیمینار کی صدارت
سیمینار کی صدارت نامور ماہر تعلیم و اقتصادیات ڈاکٹر رفیق احمد نے کی، جبکہ دیگر خطاب کرنے والوں میں پروفیسر سلمان اے خان، پروفیسر احسان ملک، پروفیسر نصیر چوہدری، پروفیسر فرح زیبا، ثروت روبینہ، کوکب اقبال ایڈووکیٹ، صدر سٹیزن کونسل رانا امیر احمد خاں اور ظفر علی راجا کے نام شامل ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








