امتحان، قابلیت اور صلاحیت کا ایک اور مرحلہ منتظر تھا، حلقہ بندیوں کا یہ سب سے تکلیف دہ مرحلہ تھا، کسی نے درست کہا تھا ”کہ نالائق کا بستہ بھاری ہو تا ہے“۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 453
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
ہائی کورٹ میں پیشی
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، ہمارے فیصلے کئی کئی صفحات پر مشتمل تھے۔ کمشنر کے فیصلے ہائی کورٹ میں چیلنج کئے جا سکتے تھے، جو ہوئے۔ ماشا اللہ، پنجاب میں سب سے زیادہ رٹ پیٹیشن ہمارے فیصلوں کے خلاف ہوئیں۔ امتحان، قابلیت اور صلاحیت کا ایک اور مرحلہ میرا منتظر تھا۔ ساری رٹ کمشنر کے فیصلوں کے خلاف تھیں اور بھگتنا مجھے اور لیگل افسر راشد علی کو پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی دوحہ پہنچ گئے
رٹ کی وصولی کا عمل
جو رٹ موصول ہوتی، اس پر وقت، تاریخ اور وصول کرنے والے کا نام لکھا جاتا۔ اگر رٹ موصول ہونے کے دو گھنٹے بعد کمشنر آفس نہ پہنچتی تو کمشنر کی ناراضگی کا علیٰحدہ سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ڈسکہ کا رہائشی راشد علی ساری ساری رات جاگ کر اپیلوں کا جواب تیار کرتا، اگلی صبح ہم کمشنر کے دستخط کروانے جاتے تو وہ دستخط کرنے سے پہلے کئی بار سوچتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
عدالت میں مشکلات
اگلے روز وہ ہائی کورٹ پہنچتا جہاں میں اس کا منتظر ہوتا۔ ان حلقہ بندیوں کا یہ سب سے تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ کسی نے درست کہا تھا کہ "نالائق کا بستہ بھاری ہوتا ہے۔" ایک پیشی پر جسٹس شاہد کی عدالت میں، میں، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل، اور لا افسر حاضر تھے۔ جج صاحب نے پوچھا؛ "کمشنر کون ہیں؟" جواب ملا؛ "ان کے نمائندے ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور لا افسر موجود ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: پر اسرار بیماری سے 143 افراد ہلاک، ڈبلیو ایچ او بھی میدان میں آگیا
کمشنر کی عدم موجودگی
جج صاحب بولے؛ "بلایا تو کمشنر کو تھا۔ کیا وہ بڑے افسر ہیں کہ خود نہیں آ سکتے؟ کیوں نہیں آئے؟" اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے معاملہ سنبھالا اور اگلی پیشی پر ان کی حاضری کی یقین دہانی کرائی۔ واپس آ کر کمشنر کو عدالتی کارروائی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کل آپ کا جانا لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سر میں جوؤں کی بھرمار، ندا یاسر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی
حلقہ بندیوں کا بحران
اگلی پیشی سے قبل ہی حکومت نے حلقہ بندی کے حوالے سے ملنے والی شکایات کے پیش نظر کی گئی حلقہ بندیاں منسوخ کر دیں اور نئی حلقہ بندی کا کام الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیا۔ جان چھوٹی، سو لاکھوں پائے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں میں جو کمالات دکھائے، وہی دکھا سکتے تھے۔ اس ملک میں صاف شفاف الیکشن کا خواب خواب ہی رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار مدینہ منورہ پہنچ گئے
کمشنر کا رویہ
حلقہ بندی کی یہ اسائنمنٹ بڑی سخت اور بہت سی بدمزگیوں کا مرکب ثابت ہوئی تھی، وجہ کمشنر کا غیر لچکدار رویہ اور سوچ تھی۔ ایسے معاملات لچک کے متقاضی ہوتے تھے جن کے بغیر کام نہیں چلتا۔ گراونڈ پر کام کرنے والے حقیقت سے بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔ کمشنر کے رویے سے مجھے تو پریشانی تھی لیکن تمام اضلاع کے انتظامی افسران کے لئے یہ اذیت تھی۔ سیاسی دباؤ بھی ضلعی یا تحصیل سطح پر بے حد زیادہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کا ٹنل پر حملہ، بڑی تعداد میں ہلاکتیں
نتیجہ
کمشنر سماعت کے دوران کوئی لچک دکھانے کو تیار نہ تھے۔ کئی بار بدمزگی ہوئی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کچھ میری کوشش اور کچھ ساتھیوں کے تعاون سے معاملات زیادہ الجھے نہیں۔ کمشنر کا مجھ پر اعتبار بڑا سود مند رہا، یہ ان کی مہربانی تھی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








