خامنہ ای انٹیلی جنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے ،بمباری کا سلسلہ جب تک ضروری ہوا جاری رہے گا: ٹرمپ
ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای انٹیلی جنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کی وجہ سے وہ یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما کوئی مؤثر اقدام نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 2ہزار روپے فی تولہ مہنگا، قیمت ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
خامنے ای کی موت کا دعویٰ
’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ایرانی عوام بلکہ عظیم امریکی قوم اور دنیا کے ان تمام لوگوں کے لیے انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل یا معذور ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیار سے کہا گیا کام ڈنڈے سے زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے، جہاں سزا دینا ضروری ہو وہاں کبھی رعایت مت کرنا سامنے خواہ کوئی بھی ہو، کیک شیک لیکر مت جانا
ایران میں تبدیلی کا موقع
امریکی صدر نے اس عمل کو ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کے انقلابی گارڈ، فوج اور دیگر سکیورٹی و پولیس اداروں کے بہت سے اہلکار اب لڑنے کے خواہاں نہیں ہیں اور امریکہ سے استثنیٰ کے طلبگار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اس ہفتے پھر سے گھی، ٹماٹر، انڈے اور آٹے سمیت 17 اشیاء ضروریہ مہنگی
امریکہ سے استثنیٰ کی طلب
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اب استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں، اور بعد میں انہیں صرف موت ملے گی۔ انقلابی گارڈ اور پولیس پرامن طور پر ایرانی محب وطن عناصر کے ساتھ ضم ہو کر ملک کو اُس عظمت کی طرف واپس لے جائیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کو صرف ایک دن میں شدید نقصان پہنچا، بلکہ یہ تباہی کے قریب کر دیا گیا ہے۔
امن کی تلاش
بمباری کا سلسلہ پورا ہفتہ یا جب تک ضروری ہوا جاری رہے گا تاکہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں امن کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔








