ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس
امریکی سابق نائب صدر کی ایران پر تنقید
نیویارک (آئی این پی) امریکی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور خامنہ ای کی شہادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی قرار دیا ہے۔
دھمکیوں کی وضاحت
اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی خطرناک اور غیر ضروری جوا ہے جو امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔
جنگ کے خلاف موقف
کملا ہیرس نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور امریکی فوجیوں کو ایک انتخابی جنگ کی خاطر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئین کے تحت صدر کو کسی بھی جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، اس لیے کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مزید عسکری پیش قدمی کو روکے۔
ایران کے خطرات اور حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے خطرات سے آگاہ ہیں اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، لیکن موجودہ راستہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
فوجیوں کی سلامتی اور قیادت
کملا ہیرس نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بہادر اہلکاروں کے لیے دعاگو ہیں جو خطرناک مشنز پر تعینات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جنگی جنون کے بجائے ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے تاکہ عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔








