متحدہ عرب امارات نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور سفیر سمیت تمام سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کردیا
ایران کی جانب سے میزائل حملے
ابو ظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد تہران میں قائم اپنا سفارت خانہ بند کرنے، اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلانے اور سفارتی مشن کے تمام ارکان کو فوری طور پر واپس طلب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی لانچنگ کی تصدیق ہو گئی
اماراتی حکومت کا ردعمل
اماراتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے کیے گئے کھلے اور جارحانہ میزائل حملوں کے ردعمل میں کیا گیا، جن میں اماراتی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے ظفر مسعود کو چیئر مین منتخب کر لیا اور 16 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی
غیر ذمہ دارانہ حملے
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملوں میں رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر سروس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے معصوم شہریوں کی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں۔ بیان میں ان حملوں کو غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی پامالی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی اور انکے نائب شہید
دفاعی مؤقف
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سفارت خانہ بند کرنے اور سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ امارات کے اس غیر متزلزل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کا مسلسل اشتعال انگیز طرز عمل خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے اور صورتحال کو ایک نہایت خطرناک رخ پر لے جا رہا ہے۔
عالمی امن کے لیے خطرات
اماراتی بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں، جبکہ توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کے استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔








