ریاض، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امیر افراد اور سینئر ایگزیکٹوز کے انخلاء کا مرکز بن گیا
ریاض: انخلا کا ایک اہم مرکز
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر خلیج سے نکلنے کے خواہشمند امیر افراد اور سینئر ایگزیکٹوز کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض ایک اہم انخلاء مرکز بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ماہ کے دوران صدر مملکت اور وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کی تفصیلات منظرعام پر آگئیں
سیکورٹی کی صورتحال
امریکی اخبار ’سیمافور‘ کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے ان چند بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے ہفتے کے آخر میں دبئی، ابوظہبی، قطر اور بحرین کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ واضح بیان کہ کشمیر کا کوئی سودا ممکن نہیں، کشمیری عوام کے لیے ایک نوید ہے: کشمیر کمیٹی جدہ
سفر کے چیلنجز
دیگر مقامات پر فضائی حدود بند ہونے کے باعث پھنسے ہوئے ایگزیکٹوز اور امیر افراد بری راستے سے ریاض کا سفر کر رہے ہیں، جن میں سے بعض دبئی سے تقریباً دس گھنٹے کا سفر طے کر کے وہاں پہنچ رہے ہیں تاکہ نجی یا تجارتی پروازوں کے ذریعے خطے سے باہر نکل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کا اثر واشنگٹن میں نظر آ رہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
نجی سیکیورٹی کا کردار
سیمافور نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نجی سیکیورٹی کمپنیاں اپنے کلائنٹس کو سعودی دارالحکومت تک پہنچانے کے لیے ایس یو وی گاڑیوں کے بیڑے کرائے پر لے رہی ہیں اور پھر چارٹرڈ طیاروں کا بندوبست کر رہی ہیں۔ انخلاء کرنے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیدار اور وہ امیر افراد شامل ہیں جو کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے لیے خلیج میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شوگر ملز کی جانب سے 15 ارب روپے سے زائد کے قرضے واپس نہ کرنے کا انکشاف
اخراجات میں اضافہ
طلب میں اچانک اضافے کی وجہ سے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نجی جیٹ بروکریج ویمانہ پرائیویٹ کے چیف ایگزیکٹو امیر نارن نے سیمافور کو بتایا کہ ریاض اس وقت خطے سے نکلنے کے لیے "واحد حقیقی آپشن" ہے، جہاں سے یورپ کے لیے نجی جیٹ چارٹر 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
متبادل راستوں کی قلت
متبادل راستے بھی محدود ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی فراہم کرنے والوں نے ابتداء میں عمان کو بطور راہداری استعمال کرنے پر غور کیا، تاہم ایران کے مبینہ حملوں میں عمان کی بندرگاہوں اور ایک ٹینکر کو نقصان پہنچنے کے بعد یہ راستہ بھی ناقابل استعمال ہو گیا، جس سے ریاض سب سے قابل رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا۔








