ایرانی سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی شہادت عالمِ اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک گہرا اور المناک نقصان ہے،عارف علوی
عارف علوی کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں شہادت، عالمِ اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک گہرا اور المناک نقصان ہے۔ میں ٹارگٹ کلنگ کے اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہوں جو کہ بین الاقوامی قوانین، خود مختاری اور انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ سوتیلے بیٹے نے بیوہ ماں کو کلہاڑی کے وار سے قتل کر دیا
بیرونی مداخلت کا تذکرہ
یہ مختلف جغرافیائی و سیاسی تناظر میں بیرونی مداخلت سے رجیم چینج کی کوششوں کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے۔ پاکستان میں، اندرونی سہولت کاروں بشمول جنرل باجوہ کی فوجی قیادت سے منسلک عناصر نے پی پی پی اور پی ایم ایل این جیسی سیاسی قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا اور ایک ایسی جابرانہ فارم-47 پر مبنی حکومت تشکیل دی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اس عمل کو عدالتی ملی بھگت، جس میں قاضی فائز عیسیٰ جیسی مکروہ شخصیات شامل تھیں، اور ایسی آئینی ترامیم کے ذریعے مزید تقویت دی گئی جنہوں نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مسخ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہندوستانی عدالت نے شوہر سے علیحدگی کے بعد بچے کی ذمہ داری اٹھانے والی ماں کو نان نفقہ کا حق دار قرار دے دیا
امریکی مداخلت کی مثالیں
انہوں نے کہا وینزویلا میں صدر مدورو کے اغوا اور انہیں بے دخل کرکے امریکہ لے جایا گیا۔ جبکہ ایران میں حکمتِ عملی یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے ذریعے قیادت کا خاتمہ کیا جائے تاکہ اندرونی بے چینی اور سڑکوں پر احتجاج کو ہوا دے کر حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ میں ایسی تمام مداخلتوں کو، خواہ وہ پراکسیز، اغوا یا کھلی فوجی جارحیت کے ذریعے ہوں، غیر مبہم طور پر مسترد کرتا ہوں کیونکہ یہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے بالکل برعکس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، آئی اے ای اے نے پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، خاص طور پر طاقت کے استعمال اور خود مختار ریاستوں کے معاملات میں مداخلت کی ممانعت کے حوالے سے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں حکومتیں بدلنے کی کارروائیوں نے کوئی استحکام یا خوشحالی نہیں لائی۔ اس کے برعکس، ان کارروائیوں نے دہائیوں پر محیط افراتفری،قتال، ٹوٹ پھوٹ، طاقت کا خلا، خانہ جنگی اور بے پناہ انسانی تکالیف کو جنم دیا، جبکہ ان کا اصل مقصد صرف مغربی اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پرامن کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں، محسن نقوی کو حساب دینا ہوگا، عمران خان
ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی
اپنے ایکس بیان میں عارف علوی نے مزید کہا اس شدید بحران کی گھڑی میں، ہم ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں جو اپنے لیڈر کا سوگ منا رہے ہیں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلسطینی کاز کے لیے ایران کی غیر متزلزل حمایت، جو کہ محض لین دین کی سیاست کے بجائے اصولی یکجہتی پر مبنی ہے، پوری مسلم امہ کے لیے ایک طاقتور مثال ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی بین الاقوامی وابستگی، بالادستی کے حساب کتاب سے بالاتر ہو کر انصاف، ظلم کے خلاف مزاحمت اور اخلاقی استقامت کو ترجیح دیتی ہے۔
دعا اور امید
دعا ہے کہ ایران متحد اور مستحکم ہو کر ابھرے، اور عالمی برادری جبر اور حکومتیں بدلنے کی انجینئرنگ کے بجائے خود مختاری اور امن کی پاسداری کرے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں شہادت، عالمِ اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک گہرا اور المناک نقصان ہے۔ میں ٹارگٹ کلنگ کے اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہوں جو کہ بین الاقوامی قوانین، خود مختاری اور…
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) March 2, 2026








