ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
انس سرور کا اپنے والد کے بیان پر ردعمل
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سکاٹش لیبر پارٹی کے سربراہ انس سرور نے اپنے والد اور پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمد سرور کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر تعزیتی بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ انس سرور نے اپنے والد کے بیان کو مکمل طور پر "غلط" قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ان کے خیالات سے بالکل اتفاق نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں: جان سینا نے ریسلنگ چھوڑنے کا اعلان کر دیا
چوہدری محمد سرور کا بیان
چوہدری محمد سرور، جو ماضی میں گلاسگو سے لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں، نے ہفتے کے روز امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اردو میں ایک ٹویٹ کیا تھا۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کو "شہید" قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ مزاحمت کی ایک مضبوط آواز سے محروم ہو گئی ہے اور وہ اس غم میں ایرانی قوم کے برابر کے شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے روسی شہریوں کے لیے 30 روزہ مفت ای ویزہ کا اعلان کر دیا
انس سرور کی تنقید
گلاسگو ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انس سرور نے اپنے والد کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں ایرانی لیڈر ایک "سفاک آمر" تھا جس نے اپنے ہی شہریوں پر مظالم ڈھائے، ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دیں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی معاونت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پورا خطہ ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے اور اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی ہونی چاہیے، جس میں ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کا خاتمہ اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کا قیام شامل ہے۔
شرمندگی کا اظہار
صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے 42 سالہ انس سرور نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے والد کے سوشل میڈیا بیانات پر "شرمندگی" محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ "عام زندگی میں بھی اکثر لوگ اپنے والد کی باتوں سے شرمندہ ہوتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ عوامی سطح کا ہے۔" انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے اور ان کے والد کے خیالات الگ الگ ہیں اور اس معاملے پر ان کی اپنے والد سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔








