دراز قد حسینہ، شرم و حیا کی پُتلی۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 74
لیکن اگر محنت مشقت سے دبایا یا بجھایا جاسکتا تھا تو آج یہ آبادی کے اضافے کی باتیں نہ ہوتیں۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کا منصوبہ افادیت کھو کر ردّی کی ٹوکری کی نذر ہوچکا تھا۔ اور یہ کاسمیٹکس انڈسٹری اپنی موت آپ مر چکی ہوتی…… اور ہر طرف سپاٹ، خالی خولی، محنت کی ماری مورتیاں ایک بے مقصد دوڑ میں اپنا حسین و جمیل تشخص کھو چکی ہوتیں اور رنگینی و رعنائی ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتی۔
خوفناک بھینس کی شکل
یہ تو ایک شاعرانہ تخیّل ٹھہرا۔ اصل بات بتانے کے لیے کچھ وقفہ درکا ر تھا غالباً…… ہاں تو اب ایک خوفناک بھینسے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ جو پہلے آہستہ آہست چلتا پھر بھاگا تو لوگوں کے مجمع میں سے جا رہا تھا لیکن اس کو کسی کی پرواہ نہیں کوئی گر جائے…… پاؤں تلے آکر روندا جائے…… ڈر کے مارے کسی کی چیخ نکل جائے یا دور سے ہی کوئی ڈر کے مارے بھاگا پھرے…… اُس کو غر ض اپنی دوڑ …… اپنی منزل سے ہے۔
روشنی کی کرن
ایک تصورّات کی دنیا بسائے رکھنا۔ سوچوں کے ایک انبوہ کثیر کی گرفت میں آجانا کبھی دائیں بائیں سے یکا یک بیزار ہوجانا اور پھر اچانک ایک روشنی کی کرن پا کر جگمگا اُٹھنا……ستاروں سے کھیلنا…… چندا سے گہری شناسائی کر لینا…… صبح ایک امید کا چراغ لے کر آتی اور شام کے دُھندلکے کچھ اُداس سا کر جاتے۔
مدعوئی پیغام
کچھ ایسی ہی صورتِ حال میں ایک واقف کار کے توسط سے ایک پیغام ہمنوائی و شناسائی آیا تو بچولا جو انڈیا میں میرا ہمسایہ تھا، نے مجھے اپنے ہاں اُسی گاؤں میں مدعو کیا اور اُن کی رشتہ داری کے ناطے لڑکی کو بھی وہاں موجود پایا۔ ایک دراز قد حسینہ، شرم و حیا کی پُتلی۔ میری موجودگی میں سمٹ سمٹ سی گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب لبوں کی حرکت سے ہی محسوس ہوا۔ آواز کہیں گلے میں ٹھہر گئی۔ میں نے اسی تھوڑی سی تعارفی ملاقات کو ہی کافی جانا…… اور اپنی رضامندی کا کھلے عام اظہار کردیا۔
رشتہ دیکھنے کا عمل
پھر میرے والدین شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ کے اُسی گاؤں کمال پور میں میرے لیے تجویز کردہ رشتہ دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ اہل خانہ نے بڑی عزت و احترام سے استقبال کیا اور پھر خاطر تواضع میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ میری والدہ جو ایک خاموش طبع لیکن دُور کی سوچ رکھنے والی خاتون تھیں، انہوں نے لڑکی کو جو پاس ہی کچھ شرمائی لجائی سی بیٹھی تھی ایک کاغذ اور قلم لانے کو کہا۔ جب وہ لے آئی تو اس سے کہا کہ ہم نے راستے میں ایک جگہ پیغام چھوڑنا ہے لہٰذا آپ وہ پیغام جو میں بتاؤں وہ اس کاغذ پر لکھ دو۔
لڑکی کہنے لگی میں تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تو امّی جان نے کہاں چلو کوئی بات نہیں یہ کاغذ قلم واپس رکھ آؤ۔ چنانچہ جب اُس گھر سے میرے والدین نے رخصت چاہی تو میری والدہ نے لڑکی کی والدہ سے علیٰحدگی میں صاف صاف کہہ دیا کہ لڑکی چونکہ پڑھی لکھی نہیں ہے لہٰذا ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں۔ آپ کو ہم کسی دھوکہ میں نہیں رکھنا چاہتے۔
سکول کا قیام
اب لڑکی کے گھر والوں پر کیا گزری یہ تو میں نہیں بتا سکتا لیکن یہ ضرور مجھے پتہ ہے کہ سب کام کاج چھوڑ کر انہوں نے گاؤں میں نا جانے کس طرح چند ہی ماہ میں سکول کُھلوا لیا اور ٹیچرز کو غالباً خصوصی درخواست کی گئی کہ جس لڑکی کے طفیل اس سکول کا اجراء ممکن ہوا اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ چنانچہ ٹیچرز کی خاطر مدارت ہوتی رہی اور ایک خاص پروگرام کے تحت تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا گیا اور پھر ساتھ ہی یہ پیغام ایک خفیہ سراغ رساں کے ذریعے میرے والدین کو بھی پہنچا دیا گیا کہ انہوں نے ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے فوراً سکول کھلوا کر لڑکی کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا شروع کردیا۔
چنانچہ والدین نے بھی اس کوشش کو سراہتے ہوئے تلاش رشتہ کے عمل کو بند کیے رکھّا۔ (جاری ہے)
نوٹ:
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








