پاکستان 25 کروڑ عوام کی آرزوؤں، امنگوں کا مرکز و محور ہے، سیاسی طور پر قائداعظم کو اپنا رول ماڈل بناتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 323
الحمد للہ! پاکستان کا قیام ہم پاکستانیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور یہ ثمر ہے ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں اور ہندو انگریز کی غلامی کا جوا ء اْتار پھینکنے کے لیے حضرت قائداعظم کی قیادت میں مسلمانانِ ہند کی سیاسی جدوجہد کا، ورنہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان اور دیگر اقلیتیں بھی اسی دکھ اور کرب سے گزر رہے ہوتے جس سے کشمیر اور ہندوستان میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں دوچار ہیں.
ناموسِ رسولؐ اور قومی مفادات
ناموسِ رسولؐ کے لیے ہم سب کی جانیں قربان لیکن سیرتِ رسولؐ اور اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز پاکستان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ ہم قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے حکومتِ وقت کے تمام قانونی احکامات کو مانیں۔ ملک میں بدامنی، لاقانونیت، تشدد اور فساد پھیلانے کا باعث نہ بنیں۔ انسانی جانوں اور املاک سے نہ کھیلیں۔ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے والی ایمبولینس اور شہروں میں اپنے کام کاج اور مزدوری کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے سڑکیں بلاک کر کے عوام الناس کے لیے باعث زحمت و آزار نہ بنیں.
پاکستان کی ترقی کی ضرورت
پاکستان 25 کروڑ عوام کی آرزوؤں، امنگوں کا مرکز و محور ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن اسے پہلے دن سے کمزور و مضمحل کرنے کی تاک میں لگے ہوئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر طبقات کا فرض بنتا ہے کہ ہم سب باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرتے ہوئے ملک و قوم کو پیچھے لیجانے کی بجائے اس کی تعمیر و ترقی اور آگے لیجانے کے لیے اپنی تمام تر قوتوں کو مجتمع کریں اور اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے محنت، دیانت، عدل و انصاف اور حق و صداقت کی راہ اپنائیں.
قائداعظم کا کردار
سیاسی طور پر قائداعظم کو اپنا رول ماڈل بناتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ قائداعظم صادق و امین، راست اقدام اور قانون کے پاسبان تھے اسی لیے اتنی طویل سیاسی جدوجہد کے باوجود انہیں زندگی بھر ایک دن کے لیے بھی جیل کا منہ نہیں دیکھنا پڑا.
سیاسی و سماجی چیلنجز
صد افسوس پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا، صراط مستقیم پر مبنی قرآن حکیم جیسی دنیا کی سب سے بڑی کتاب کے حامل ہونے اور قائد اعظم و اقبال جیسے رول ماڈل سیاسی قائدین رکھنے کے باوجود ہم اور ہماری سیاسی جماعتیں پاکستان کو اس کے حق اور صلاحیتوں (Potential) کے مطابق کماحقہ ترقی نہیں دلا سکے جو مجھ جیسے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے باعث کرب و ملال ہے جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے.
تشدد کے واقعات کی مذمت
اسی طرح کے واقعات - 25 مارچ 2023ء اسلام آباد مارچ کے دوران نہتے عوام پر تشدد کے واقعات اور سیاسی پرامن ریلیوں، اجتماعات پر لاٹھی چارج، ربڑ کی گولیاں چلانے اور پٹرول بم تک پھینکنے کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں جو جمہوری معاشروں کے لیے رسوائی کا باعث بنتے ہیں.
مشہور صحافی رؤف طاہر کا ذکر
انتقال پر ملال معروف صحافی رؤف طاہر (4 جنوری 2020 ء) نے ایک روز باتوں باتوں میں سیکرٹری مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن سے تذکرہ کیا کہ میں ادیب ہوں نہ لکھاری۔ ہمارے وقت 1950ء کے عشروں میں اردو زبان کی تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک لازمی تھی، بعدازاں باقاعدہ کبھی بھی اردو زبان و ادب پڑھنے کا موقعہ نہیں ہوا. کچھ سالوں سے چند پْرانے دوستوں کا تقاضا تھا کہ مجھے اپنی زندگی کی یادداشتوں کو تحریر میں لانا چاہیے... آخرکار میں نے اپنی یادداشتوں کو قلمبند کرنا شروع کر دیا.
کتاب کی اشاعت
انہوں نے مجھے کہا اب تک جو لکھ لیا ہے مجھے فوری بھیج دیں میں اْسے کتابی شکل دے دوں گا۔ ایک روز فون کر کے مجھے بتایا کہ انہوں نے میری کتاب کے نامکمل رُفڈرافٹ کو پڑھنا شروع کر دیا ہے اور امید ہے یہ کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا باعث بنے گی.
یاد رہے کہ یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں.








