ایران پر حملہ ابتداءہے،’’ بڑی لہر ‘‘ابھی باقی ہے، ہم نے ابھی سختی سے نہیں مارا، بڑا حملہ جلد ہوگا:ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے خلاف کارروائیاں
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائیاں ایران کے خلاف صرف ابتدا ہیں، "بڑی لہر" ابھی آنا باقی ہے، حملے میں ایران کے 49 رہنما مارے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے بیٹے جنید کی شادی کی ناکام کیوں ہوئی؟ شادی میں فوٹوگرافی کرنے والے عرفان احسن نے تقریب کا آنکھوں دیکھا حال سنا دیا
بڑی لہر کا انتظار
"جنگ" کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ابھی انہیں سختی سے نہیں مارا، بڑی لہر ابھی باقی ہے، بڑا حملہ جلد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مرد آہن جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف کی للکار
جنگ کی مدت
جنگ کی مدت سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں نہیں چاہتا کہ یہ زیادہ دیر تک جاری رہے، میں سمجھ رہا تھا کہ ایران پر حملے میں 4 ہفتے لگیں گے، مگر ہم تھوڑا سا شیڈول سے آگے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی: بیرسٹر گوہر علی
زمینی فوج کی ضرورت
امریکی صدر نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دیگر صدور کی طرح زمینی فوج نہ بھیجنے کی بات نہیں کروں گا، امکان ہے کہ زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی، ایسا بھی ممکن ہے کہ زمینی فوج ضرورت بن جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد
امریکی فضائی اور بحری کارروائیاں
خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان امریکی فضائی اور بحری کارروائیوں کے بعد آیا ہے، جن میں ایران کی بیلسٹک میزائل، بحری اور نیوکلیئر صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزیر دفاع کی وضاحت
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ صرف نام نہاد حکومت کی تبدیلی کی جنگ نہیں، ایران میں امریکی مشن کا مقصد ایران کے میزائلوں کو تباہ کرنا تھا۔ جنگ امریکا فرسٹ کی شرائط پر ختم کریں گے۔








