پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا، ہم کسی جلد بازی میں نہیں: سینئر سیکیورٹی عہدیدار

پاکستان کی سیکیورٹی حکمت عملی

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) پاکستان کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا، ہم کسی جلد بازی میں نہیں۔ افغان طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے ساتھ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو اپنی سرزمین میں داخلے سے روکنے کے الزامات کو مسترد کردیا

آپریشن غضبُ للحق کی وضاحت

سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے ’’آپریشن غضبُ للحق‘‘ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری آپریشن اُس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔ ہم کسی جلد بازی میں نہیں ہیں۔ افغان طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے ساتھ۔ پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا۔ افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے ہی گھر سے چوری کے الزام میں خاتون اور اس کا دوست گرفتار

جنگی معیشت کا فروغ

سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت مسخ شدہ مذہبی نظریئے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کی قیادت کا اصل مقصد مفادات اور مالی فوائد ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات ’’آپریشن غضبُ للحق‘‘ کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے۔ ہم اس حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہ جائز اہداف ہیں جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ کے تناظر میں self ڈیفنس کے زمرے میں آتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت اور اُن کے بھارتی سرپرست اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔ تمام دعوؤں کی تصدیق کی جانی چاہیے کیونکہ افغان طالبان کے سرکاری ذرائع قابلِ اعتبار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے والے تین بہن بھائی گرفتار

افغانستان میں اُمید کی کرن

سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو مظلوم افغان برادریوں اور اقلیتوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔ ہمارا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں؛ ہماری کارروائیاں صرف اُن خوارجی عناصر اور اُن کے حامیوں کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا معاون ہیں۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں؛ یہ افغان عوام کا داخلی اختیار ہے۔ افغان عوام اس امر پر اطمینان رکھتے ہیں کہ ظالمانہ عناصر کے خلاف مؤثر اقدام کیا گیا ہے۔ اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، وہی مقامات جن کا دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

آگے کا راستہ

سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان ’’آپریشن غضبُ للحق‘‘ کے خاتمے کے معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور معاونین کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پاکستان افغانستان میں اندھا دھند اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف اُن مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو دہشت گرد گروہوں کی معاونت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اندرونی سیکیورٹی میں پاک فوج کی شمولیت گورننس کے خلا کے باعث ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کے سیاست زدہ ہونے نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا، جس کے باعث فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے بہتر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی اپیل کرتے ہیں۔ پاک فوج کا سیاست یا دیگر امور سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...