الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کا انتخابی نشان روک لیا
استحکام پاکستان پارٹی کا انتخابی نشان روک دیا گیا
اسلام آباد (آئی این پی) الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کا انتخابی نشان روک لیا۔ رپورٹ کے مطابق، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کا انتخابی نشان انٹرا پارٹی الیکشنز نہ کرانے اور سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو دہشت گرد اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں، طلال چوہدری
کیس کی سماعت
کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کی، تاہم آئی پی پی کی جانب سے کوئی بھی نمائندہ الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوا۔ دورانِ سماعت ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود شیروانی نے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی پی پی اپنے آئین اور الیکشنز ایکٹ پر عمل نہیں کر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: دعویٰ سے کہتا ہوں پی ٹی آئی ہر چیز پر وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آن بورڈ ہے، شیرافضل مروت
انٹرا پارٹی الیکشنز کی عدم موجودگی
پارٹی آئین کے تحت ہر 4 سال بعد آئی پی پی کے انٹرا پارٹی الیکشنز ہونا لازم ہیں جبکہ آئی پی پی کے انٹرا پارٹی الیکشنز جنوری 2026 میں ہونے تھے جو نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی پی پی سالانہ فنڈز اور اخراجات کی تفصیلات بھی جمع نہیں کرا رہی، اس لیے استحکام پاکستان پارٹی کا نشان روک رکھا ہے۔ انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی۔
نوٹس کی صورتحال
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آئی پی پی کو نوٹس دیا گیا تھا جس پر ڈی جی پولیٹکل فنانس نے بتایا کہ نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی۔








