مودی سرکار نے ایران جیسے اتحادی کو نظر انداز کرکے سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا:سونیا گاندھی نے اہم سوالات اٹھا دیئے
سونیا گاندھی کے اہم سوالات
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سالانہ 500 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے، وزیراعظم کا بجلی بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا اعلان
سفارتی خودمختاری کا نقصان
تفصیلات کے مطابق بھارتی جریدے میں شائع مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ بھارت نے ایران جیسے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت پر سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: جتنے لوگ ٹرمپ سے ملے ہیں کچھ دے کر ہی آئے ہیں لے کر کم ہی آئے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر)نعیم لودھی
تاریخی توازن میں تبدیلی
اُنہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ بھارت تاریخی طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے لیکن اب مودی نے اسے ’’سیاسی نمائش‘‘ کی نذر کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں 2020 کے بعد پہلی بار تیل و گیس کے ذخائر میں بڑا اضافہ
عالمی ساکھ پر سوالات
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق سونیا گاندھی کے مطابق اس طرزِ عمل نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں اور حکومت کو اسرائیل نواز مفادات کا محض تابع دار بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ کہ مودی حکومت جسے سفارت کاری کہتی ہے، وہ دراصل بحران کے لمحات میں ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔ یہ اخلاقی بزدلی ہے جس سے عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
آزاد خارجہ پالیسی کا چیلنج
سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا مدھم ردِعمل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے دستبردار ہوگئی ہے۔








