مودی سرکار نے ایران جیسے اتحادی کو نظر انداز کرکے سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا:سونیا گاندھی نے اہم سوالات اٹھا دیئے
سونیا گاندھی کے اہم سوالات
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈس بیسن میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر۔۔پاکستان خطے میں توانائی برآمد کرنیوالا ملک بھی بن سکتا ہے، حقائق جانیے
سفارتی خودمختاری کا نقصان
تفصیلات کے مطابق بھارتی جریدے میں شائع مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ بھارت نے ایران جیسے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت پر سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں انسداد ڈینگی آپریشن تیز، مختلف سیکٹرز میں سپرے، متعدد نئے کیس رپورٹ
تاریخی توازن میں تبدیلی
اُنہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ بھارت تاریخی طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے لیکن اب مودی نے اسے ’’سیاسی نمائش‘‘ کی نذر کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رہنما جماعت اسلامی میاں اسلم ڈی چوک پہنچ گئے، ایچ ایس او پولیس اہلکاروں پر برہم
عالمی ساکھ پر سوالات
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق سونیا گاندھی کے مطابق اس طرزِ عمل نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں اور حکومت کو اسرائیل نواز مفادات کا محض تابع دار بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ کہ مودی حکومت جسے سفارت کاری کہتی ہے، وہ دراصل بحران کے لمحات میں ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔ یہ اخلاقی بزدلی ہے جس سے عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
آزاد خارجہ پالیسی کا چیلنج
سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا مدھم ردِعمل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے دستبردار ہوگئی ہے۔








