ملتان سلطانز صرف ایک کرکٹ ٹیم نہیں تھی بلکہ ایسے خطے کی شناخت اور فخر تھی، جسے طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا،علی ترین
علی ترین کا ملتان سلطانز کے ساتھ سفر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق فرنچائز مالک علی ترین کا کہنا ہے کہ 7 سال ملتان سلطانز کے ساتھ گزارنے کے بعد میں بغیر کسی پچھتاوے کے اس باب کو الوداع کہہ رہا ہوں۔ میری زندگی کے کچھ قابلِ فخر ترین لمحات اسی سفر کا حصہ رہے اور میں ہمیشہ اس تجربے پر شکر گزار رہوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ ملازمین کے لیے تعطیل کا اعلان کردیا گیا
ایک اہم لمحہ
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ واحد لمحہ جس نے مجھے واقعی متاثر کیا، وہ تھا جب ملتان کو پاکستان سپر لیگ سے نکال دیا گیا۔ یہ دکھ بہت گہرا تھا، اس لیے نہیں کہ اس کا اثر مجھ پر کیا پڑا، بلکہ اس لیے کہ اس کا اثر مداحوں اور جنوبی پنجاب کے لوگوں پر کیا ہوا۔ جنوبی پنجاب ہمیشہ سے کم نمائندگی کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے لوگ باصلاحیت، پُرجوش اور ہر اس پلیٹ فارم کے مستحق ہیں جو انہیں آگے بڑھنے کا موقع دے۔ ملتان سلطانز صرف ایک کرکٹ ٹیم نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے خطے کی شناخت اور فخر کی علامت تھی جسے طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا۔ نمائندگی کے لیے وہی لوگ آواز بلند کرتے ہیں جو اپنے خطے سے سچی محبت رکھتے ہوں۔
شکریہ گوہر شاہ
علی ترین نے مزید کہا کہ میں گوہر شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے جدوجہد کی اور ملتان سلطانز کو دوبارہ پی ایس ایل میں واپس لانے میں کردار ادا کیا۔ اب شہر کو اپنی ٹیم دوبارہ مل گئی ہے، اور جنوبی پنجاب کو اپنی آواز ایک بار پھر حاصل ہو گئی ہے۔
After seven years with Multan Sultans, I left with no regrets. That chapter of my life gave me some of my proudest moments, and I will always be grateful for it.
The only moment that truly affected me was when Multan was removed from the league.
That hurt. More than anything.…
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) March 3, 2026








