نوابزادہ لیاقت علی خان نے اپنے گھر کی بالکنی سے خطاب کیا، عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے ہندوستان پر واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت مہنگی پڑے گی۔

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 324

ایک روز فون کر کے مجھ سے پوچھا کہ میرا آفس کہاں ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ 62 مزنگ روڈ صفانوالہ چوک میں ہے۔ کہنے لگے کہ میرا اپنے بیٹے کے ساتھ اْدھر سے اکثر گزر ہوتا ہے، میں کسی دن چکر لگاؤں گا لیکن زندگی نے انہیں مہلت نہ دی۔

انتقال کی خبر

4 جنوری 2021ء ان کے انتقال والے دن اذان عشاء کے قریب میں اپنے آفس سے واپس گھر پہنچا تو مجھے ہمارے مشترکہ دوست حافظ زاہد کے فون نے چونکا دیا۔ وہ مجھے رؤف طاہر کے انتقال کی خبر دے رہے تھے۔ میں نے یقین کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کی اطلاع غلط ہو گی۔ وہ صحتمند، مستعد جسم و جان، خوبصورت دل و دماغ اور مثبت رویوں کے مالک تھے۔ وہ اسلامی اقدار کے پاسبان اور پاکستان کے شیدائی تھے۔ میرے خیال میں وہ اتنی جلدی دارِ فانی کو کوچ کرنے والے نہیں تھے لیکن جونہی گھر کے اندر داخل ہو کر میں نے مجیب الرحمٰن شامی اور اینکر پرسن محمد اجمل جامی کے پروگرام ’’نقطۂ نظر‘‘ کو ٹیلی ویژن پر آن کیا تو مذکورہ المناک خبر کی توثیق ہو گئی اور میں دم بخود ہو کے رہ گیا۔ پروگرام میں عالی دماغ مجیب الرحمٰن شامی جیسے بلند پایہ صحافی اور بڑے تجزیہ کار کو پہلی مرتبہ روتے ہوئے دیکھا جو اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں دلی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ رؤف طاہر کی موت سے ہم سب ایک خوبصورت دوست اور ایک عالیٰ ظرف، محب وطن صحافی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اْن کے درجات بلند کرے۔

پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے تجربات

وطن عزیز سے اپنی لازوال محبت کے باعث قومی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے ایسے واقعات اور اقدامات جن کے نتیجے میں ملک و ملت کا اتحاد، امن اور ترقی خطرات سے دوچار ہو جائے، حساس محب وطن پاکستانیوں کے لیے سوہانِ روح بنتے ہیں۔ لہٰذا بطور سیاسی کارکن تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لیے میں خود کو مجبور پاتا ہوں کہ میں ایسے تمام واقعات پر اپنے بے لاگ تبصرہ کو بھی اپنی سوانح عمری کا حصہ بناؤں۔

قیام پاکستان کے بعد کا پہلا عشرہ

1948ء میں قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد 1951ء میں پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علیخاں کی شہادت بھی پاکستانی عوام کے لیے بڑے صدمے کا باعث بنی۔ میں ان دنوں پرائمری میونسپل سکول کا دس سالہ طالب علم تھا۔ جڑانوالہ ہمارے گھر میں پہلے دن سے ہماری بیٹھک میں ایک ریڈیو ہوتا تھا جسے آن کر کے اپنی فرصت کے اوقات میں اکثر خبروں کے بلیٹن، بچوں کے پروگرام اور سیاسی حکمران سیاستدانوں کی تقاریر بڑے شوق سے سْنا کرتا تھا۔

وزیر اعظم لیاقت علیخاں کی تقریر

اسی دور میں گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر اور وزیر اعلیٰ میاں محمد ممتاز دولتانہ کی ایک سے زائد تقاریر مجھے ریڈیو پاکستان سے سننے کا اتفاق ہوا۔ ریڈیو سے ہی میں نے وزیر اعظم لیاقت علیخاں کی وہ تقریر سْنی جس میں انہوں نے پاکستان کی سرحدوں پر بھارتی افواج کے جمع ہونے کی خبروں کے بعد کراچی اپنے گھر کے باہر جمع ہونے والے عوام کے ایک جم غفیر سے اپنے گھر کی بالکنی سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے پاکستانی عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے ہندوستان پر واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت بھارت کو مہنگی پڑے گی۔ لیاقت علیخان وزیراعظم پاکستان نے اپنا مکہ لہراتے ہوئے درج ذیل شعر پڑھ کر بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان پر چڑھائی کرنے سے باز رہے۔

باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...