ایران کے میزائل اور ڈرون حملے، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی مواصلاتی تنصیبات اور ریڈومز شدید متاثر
حیران کن رپورٹ: ایران کے ہاتھوں امریکی نقصانات
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی اخبار ’ نیویارک ٹائمز ‘ نے ایران کے ہاتھوں ہونے والے امریکی نقصانات پر ثبوتوں کے ساتھ حیران کن رپورٹ جاری کر دی ہے جس نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیاہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ہفتے کے آخر اور پیر کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکہ کے کم از کم سات فوجی اڈوں پر مواصلاتی اور ریڈار نظام سے منسلک یا ان کے قریب موجود ڈھانچوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں میں نقصان پہنچا ہے اور یہ چیزیں سیٹیلائٹ تصاویر اور تصدیق شدہ ویڈیوز کے تجزیے سے حاصل ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے مصدقہ معلومات کیلئے ڈی جی پی آر آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا
امریکی فوج کے مواصلاتی نظام پر اثرات
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز کے مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے نظام، سیٹلائٹ ڈِشز اور ریڈومز (radomes) کے قریب یا ان پر نقصان ہوا ہے۔ ریڈومز ایسے موسمیاتی حفاظتی کورز ہوتے ہیں جو حساس آلات کو محفوظ رکھتے ہیں اور فوج کو طویل فاصلے تک رابطہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
امریکی فوج کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تفصیلات انتہائی خفیہ رکھی جاتی ہیں، اس لیے یہ واضح کرنا مشکل ہے کہ کن مخصوص سسٹمز کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا مقصد امریکی فوج کی باہمی رابطے اور ہم آہنگی کی صلاحیت کو متاثر کرنا تھا۔ ایران اس سے قبل بھی امریکی فوج کے مواصلاتی نظام کو نشانہ بنا چکا ہے، جیسے گزشتہ جون میں اس نے قطر کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا، جسے اس نے دوبارہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی ٹوئنٹی، سری لنکا نے پاکستان کو شکست دے دی
بحرین میں حملے کی تفصیلات
بحرین میں تصدیق شدہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتہ کے روز ایران کے ایک ون وے حملہ آور ڈرون نے امریکی نیوی کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر میں موجود ایک ریڈوم کو نشانہ بنایا۔ یہ ہیڈکوارٹر مناما میں واقع ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری کارروائیوں کو مربوط بنانے کا بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دن لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا کہ ہیڈکوارٹر میں موجود کم از کم ایک اور ریڈوم بھی تباہ ہو گیا تھا۔
تباہ ہونے والی یہ دونوں تنصیبات AN/GSC-52B سیٹ کام (SATCOM) ٹرمینلز تھیں، جو امریکی فوج کے لیے زیادہ گنجائش اور تقریباً حقیقی وقت میں مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف منسٹر آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام کا آغاز، 50 ہزار روپے اسکالرشپ دیا جائے گا، طلباء کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟ جانیے
قطر میں حملے کا اثر
قطر میں واقع العدید ایئر بیس کی اتوار کی دوپہر لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیٹلائٹ ڈشوں سے گھرا ایک خیمہ تباہ ہو گیا ہے اور کئی ڈشوں کو بھی غالباً نقصان پہنچا ہے۔ العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ ہے، جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں اور اس کا رقبہ تقریباً چھ میل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ اڈہ خطے میں امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کا علاقائی ہیڈکوارٹر بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قربانیاں دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے مگر یہاں نیتوں کھوٹ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
کویت میں ہونے والے نقصان کی معلومات
کویت میں واقع کیمپ عارف جان کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتوار کی صبح تک کم از کم تین ریڈومز کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو چکے تھے۔ اس سے تقریباً 50 میل شمال مشرق میں واقع علی السلیم ایئر بیس پر بھی سیٹلائٹ کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کے قریب موجود کم از کم چھ عمارتیں یا ڈھانچے نقصان کا شکار ہوئے یا تباہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہوگئی تو دنیا کا کیا منظر ہو گا؟ سائنسی تحقیق جسے پڑھ کر امریکہ اور یورپ میں رہنے والوں کو بھی پسینے آجائیں گے۔
سعودی عرب میں مزید حملے
سعودی عرب میں ہفتے کی رات پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ پرنس سلطان ایئر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تصاویر میں اس مقام سے منسلک ایک عمارت سے تقریباً ایک میل لمبا دھوئیں کا بادل اٹھتا ہوا دیکھا گیا اور عمارت زیادہ تر تباہ ہو چکی ہے۔ یہاں پر بھی حملے کا مقصد مواصلاتی نظام کو نشانہ بنانا تھا۔
متحدہ عرب امارات میں حملوں کا اثر
یو اے ای میں ال رویس کے قریب ایک فوجی تنصیب کے کئی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، ایک ریڈار نظام AN/TPY-2 — جو بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی اور ان کا سراغ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور میزائل دفاعی کارروائیوں کی ہم آہنگی میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جسے نشانہ بنایا گیا۔
اسی ملک میں تقریباً 100 میل مشرق میں واقع الدھافرا ایئر بیس پر ہونے والے حملے کا ہدف کم واضح ہے۔ اتوار کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر رقبے والے کمپاؤنڈ میں قریب قریب موجود عمارتیں اور خیمے شدید نقصان کا شکار ہوئے۔








