مشرق وسطیٰ کشیدگی؛ خلیجی سیاحت کو بڑا خطرہ لاحق ، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی
ایران اور امریکہ کی جنگ: خلیجی سیاحت پر خطرہ
ابوظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے خلیجی سیاحت کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کا غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ عارضی شادی کا انکشاف انڈونیشیا کے دیہات میں
مشرق وسطیٰ کی سیاحت پر مالی اثرات
نجی ٹی وی "سماء نیوز" کی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی سیاحت کو 56 ارب ڈالرز تک کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ خطے کی سالانہ تقریباً 367 ارب ڈالر کی سیاحتی صنعت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے نہتے شہریوں کے لیے اب تک امدادی سامان پر مشتمل ۱۸ جہاز روانہ کیے جا چکے ہیں: عطاء اللہ تارڑ
برطانوی شہریوں کی واپسی کی رجسٹریشن
رپورٹ کے مطابق، 3 لاکھ سے زائد برطانوی شہری یو اے ای میں موجود ہیں، جن میں سے 1 لاکھ سے زائد نے واپس آنے کے لیے رجسٹر کرالیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد یہ فضائی سفر کا سب سے بڑا بحران ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ سے رابطہ، خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی گفتگو
بکنگ کی منسوخیاں اور متبادل مقامات
متحدہ عرب امارات میں ویکیشن رینٹل کی منسوخیاں دوگنا ہوگئی ہیں، اور زیادہ تر بکنگز مارچ کے مہینے کے لیے تھیں۔ ماہرین کے مطابق 8450 سے زائد بکنگز منسوخ کردی گئی ہیں۔ خلیجی سیاحوں کے لیے ترکیہ اور آذربائیجان متبادل روٹ بن رہے ہیں۔
مسافروں کی نئی ترجیحات
ایئرلائنز اور ٹریول کمپنیوں کے مطابق، مسافر پرتگال، اٹلی، اور یونان کی طرف شفٹ ہورہے ہیں، جبکہ ایشیائی مارکیٹ میں مسافروں نے سستی رہائش کے حصول کے لیے تھائی لینڈ اور ملائشیا کا رخ کیا ہے۔








