مشرق وسطیٰ کشیدگی؛ خلیجی سیاحت کو بڑا خطرہ لاحق ، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی

ایران اور امریکہ کی جنگ: خلیجی سیاحت پر خطرہ

ابوظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے خلیجی سیاحت کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جھانسی ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کرنے والے یعقوب، جن کی اپنی جڑواں بیٹیاں جھلس گئیں

مشرق وسطیٰ کی سیاحت پر مالی اثرات

نجی ٹی وی "سماء نیوز" کی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی سیاحت کو 56 ارب ڈالرز تک کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ خطے کی سالانہ تقریباً 367 ارب ڈالر کی سیاحتی صنعت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرپٹو اغوا کیا ہیں اور ان میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

برطانوی شہریوں کی واپسی کی رجسٹریشن

رپورٹ کے مطابق، 3 لاکھ سے زائد برطانوی شہری یو اے ای میں موجود ہیں، جن میں سے 1 لاکھ سے زائد نے واپس آنے کے لیے رجسٹر کرالیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد یہ فضائی سفر کا سب سے بڑا بحران ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نارووال، موٹر سائیکل کی لائٹ ٹوٹنے پر بھتیجے نے چچا کو قتل کر ڈالا

بکنگ کی منسوخیاں اور متبادل مقامات

متحدہ عرب امارات میں ویکیشن رینٹل کی منسوخیاں دوگنا ہوگئی ہیں، اور زیادہ تر بکنگز مارچ کے مہینے کے لیے تھیں۔ ماہرین کے مطابق 8450 سے زائد بکنگز منسوخ کردی گئی ہیں۔ خلیجی سیاحوں کے لیے ترکیہ اور آذربائیجان متبادل روٹ بن رہے ہیں۔

مسافروں کی نئی ترجیحات

ایئرلائنز اور ٹریول کمپنیوں کے مطابق، مسافر پرتگال، اٹلی، اور یونان کی طرف شفٹ ہورہے ہیں، جبکہ ایشیائی مارکیٹ میں مسافروں نے سستی رہائش کے حصول کے لیے تھائی لینڈ اور ملائشیا کا رخ کیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...