وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس، صوبے میں امن وامان اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا پر پیش رفت کا جائزہ
اجلاس کا مقام اور شرکاء
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں صوبے میں امن و امان، مجموعی سیکورٹی صورتحال، اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسمبلیاں اپنی توقیر کھو بیٹھیں ہیں ، پورے پارلیمانی نظام کو قیدی بنا دیا گیا ہے، سلمان اکرم راجا
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس میں کمانڈر لاہور کور سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ شرکا کی جانب سے آپریشن ضرب للحق میں کامیابی پر اظہار تشکر کیا گیا اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پاک سرزمین کے دفاع کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے کرنل گل فراز اور دیگر شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں خطرناک عمارتیں درد سر بن گئیں ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ایک بار پھرانتہائی وارننگ جاری کر دی
امن و امان کی صورتحال
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ ایران جنگ کے بعد پنجاب میں ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لئے فوری طور پر امن و امان کنٹرول کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کچہ آپریشن میں کامیابی پر پاک فوج اور سندھ پولیس کا شکر گزار کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین ماہ سے کچہ میں اغوا برائے تاوان کا کیس سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے، ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا، جمہوریت کی کہانی نا خوشگوار رہی ہے
ترقیاتی منصوبے
کچہ کے لئے سیف سٹی، ایجوکیشن ریفارمز، ہیلتھ سمیت 10 ارب کے ترقیاتی منصوبے لائے جا رہے ہیں۔ کچہ میں 1500 اہلکار تعینات ہوں گے اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، 'اپنا کھیت اپنا روزگار' کے تحت بے زمین کسانوں کو زرعی اراضی بھی فراہم کی جائے گی۔
غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا
مریم نواز نے مزید کہا کہ ساڑھے دس ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو نکالا جا چکا ہے۔ کومبنگ آپریشن میں روزانہ دس سے بارہ غیر قانونی افراد نکالے جا رہے ہیں۔ چینی باشندوں کی سیکورٹی کے حوالے سے ایس او پی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ چینی باشندوں کی سیکیورٹی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور اب صرف پولیس کی ہمراہی میں ہی نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔








