پاکستان ایران کے ساتھ سعودی عرب پر حملوں کو روکنے کے لیے بات چیت کررہا ہے،رانا ثنااللہ
پاکستان اور ایران کے درمیان بات چیت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ سعودی عرب پر حملوں کو روکنے کے لیے بات چیت کررہا ہے۔ فوجی قیادت نے آج کی ان کیمرا بریفنگ میں آگاہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے اور یہ یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں کہ خلیجی ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف ڈی اے لاہور پنجاب ٹینس چیمپئن شپ میں اشعر/ہادی اور ملک/غضنفر کی شاندار کارکردگی
اجلاس میں شرکاء کی رائے
وی نیوز کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ اجلاس میں شرکا نے ایران کے حق میں اس بات کی حمایت کی کہ وہ اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرے، تاہم ان کا ماننا تھا کہ تہران کا ردعمل خلیجی ممالک کی طرف نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سنبھل کی مسجد کے نیچے مندر کے دعوے کی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان کی مثبت سفارتی کوششیں
رانا ثنااللہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاس کو بتایا کہ ایران نے یہ یقین دلایا ہے کہ اگر سعودی عرب اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو وہ سعودی عرب پر حملے نہیں کرے گا۔ پاکستان کے ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تبادلے کافی مثبت ہیں اور پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے پہلے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال
مشرق وسطیٰ کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچانے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے خبردار کیاکہ امریکا نے یہ توقع کی ہوگی کہ ایران ابتدائی بڑے حملے کے بعد پیچھے ہٹ جائے گا اور تمام شرائط یکطرفہ طور پر قبول کرے گا، تاہم خطے میں جنگ طویل ہو سکتی ہے۔








