ایران میں جاری امریکی آپریشن ”ایپک فیوری” کے دوران لیزر ہتھیاروں کا پہلی بار استعمال، امریکی جنگی بحری جہاز سے طاقتور شعاعوں کے ذریعے ایرانی ڈرونز بنائے جا رہے ہیں، نیو یار پوسٹ کی رپورٹ
امریکی لیزر ہتھیاروں کا استعمال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیزر ہتھیاروں کو آپریشن “ایپک فیوری” میں پہلی بار حقیقی معنوں میں آزمایا جا رہا ہے۔ نیو یارک پوسٹ کے مطابق، ایران کے ساحل کے قریب تعینات ایک امریکی جنگی جہاز پر نصب امریکی بحریہ کا "HELIOS" سسٹم انتہائی درست توانائی کی شعاعوں کے ذریعے فضا میں موجود ڈرونز کو تباہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین کیخلاف کارروائی کا اعلان
ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ
اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا بڑا ملبہ خطے میں مختلف جگہوں پر بے ضرر انداز میں گر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک بالکل نئی سطح کی جنگی حکمتِ عملی ہے۔
جدید جنگی حکمت عملی
سیٹلائٹس میزائل یا ڈرون کے لانچ ہوتے ہی ان کا سراغ لگا لیتے ہیں، سائبر ٹیمیں دشمن کے ریڈار کو جام کر دیتی ہیں، جبکہ لیزر ہتھیار آنے والے خطرات کو فضا میں ہی تباہ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے زمینی فوج اتارے بغیر تقریباً 1700 اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اپنے نقصانات کو کم سے کم رکھا ہے۔








