سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے، بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
ایران کی میزائل حدود
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میزائلوں کی حد دو ہزار کلومیٹر تک محدود قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا نے ایران اسرائیل امریکہ تنازع میں ثالثی کی پیش کش کردی
میزائل کی رینج کی وضاحت
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے میزائلوں کی حد دو ہزار کلومیٹر تک محدود ہے۔ ہم نے جان بوجھ کر میزائل رینج کو محدود رکھا تاکہ کسی کو خطرہ محسوس نہ ہو اور میزائل رینج بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا ہے اور ایسے کوئی شواہد یا انٹیلی جنس نہیں کہ میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری
نیا سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل
سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیا سپریم لیڈر مجلس خبرگان منتخب کرے گی۔ سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے۔ صدر، کابینہ اور پارلیمنٹ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ صرف ایران کے عوام کا حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹاس کی شفافیت پر سوال اٹھ گئے
بیرونی دباؤ کی مزاحمت
عباس عراقچی نے کہا کہ قیادت کے معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، طلبہ بھی حملوں میں مارے جا رہے ہیں، اسپتالوں اور شہری تنصیبات پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم بحرین پہنچ گئے
حملوں کا اثر
ان کا کہنا تھا کہ میٹھے پانی کے پلانٹس اور ریفائنریاں بھی حملوں کا نشانہ بنیں، حملوں میں کئی مقامات پر شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
آتشزدگی کے واقعات
دوسری جانب ایران میں آئل اسٹوریج ٹینکوں میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، فضائی حملوں کے بعد تہران کے آسمان پر گہرے دھوئیں کے بادل چھا گئے ہیں۔








