نئے سپریم لیڈر کا انتخاب طاقت و وقار کے نئے دور کی شروعات ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے طاقت اور وقار کے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی دہشتگرد تنظیم سے بات نہیں کرنی چاہیے، کوئی خطے میں اپنی بدمعاشی ثابت کریگا تو پاکستان بھر پور جواب دیگا: سپیکر پنجاب اسمبلی
صدر کا تاریخی پیغام
’ایران انٹرنیشنل‘ کے مطابق، ایران کی مجلسِ خبرگان کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد، ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ دانشمندانہ اور بر وقت ہے جو مرحوم رہنما علی خامنہ ای کی وفات کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور شہباز شریف کے کزن میاں شاہد شفیع وفات پا گئے
نئی قیادت کا اثر
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کے تحت ایران میں قومی اتحاد مضبوط ہو گا اور ملک اپنے دشمنوں کی سازشوں کا مؤثر مقابلہ کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شہری نے Peugeot E-2008 مکمل الیکٹرک کار پاکستان منگوا لی، اس میں کیا الگ ہے؟ آپ بھی دیکھیے
ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت
ان کا مزید کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب قومی اتحاد اور ارادے کی مضبوطی ہے، فیصلہ ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی مڈل ایسٹ /گلف کے سیکرٹری انفارمیشن ذوالفقار علی مغل کی بڑی ہمشیرہ شہناز بیگم کا انتقال
علی خامنہ ای کی وراثت
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ علی خامنہ ای کی قیادت نے ایران کے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھی ہے جس پر اب مزید سائنسی، تکنیکی اور معاشی ترقی ممکن ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سیاسی میدان میں نئی انٹری؛ الیکشن کمیشن نے نئی جماعت رجسٹر کرلی
پاسدارانِ انقلاب کا اقدام
دوسری جانب، ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے نئی قیادت کے اعلان کے فوراً بعد ’علی ولی اللّٰہ‘ نامی آپریشن کے تحت میزائلوں اور ڈرونز کی نئی کھیپ داغنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے گیمر نے Temu کی بدولت اپنے گیمنگ سیٹ اپ کو نئی بلندی پر پہنچا دیا
حملے کی تفصیلات
ایرانی فوج کے مطابق، حملوں میں خرمشہر، فتاح اور خیبر نامی بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
وفاداری کا اظہار
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک میزائل کی تصویر بھی جاری کی ہے جس پر فارسی میں ’لبیک یا سید مجتبیٰ‘ لکھا ہوا تھا، جسے نئی قیادت کے ساتھ وفاداری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








