نئے سپریم لیڈر کا انتخاب طاقت و وقار کے نئے دور کی شروعات ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے طاقت اور وقار کے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کی خبروں سے متعلق شاہزیب خانزادہ اور حامد میر بھی بول پڑے
صدر کا تاریخی پیغام
’ایران انٹرنیشنل‘ کے مطابق، ایران کی مجلسِ خبرگان کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد، ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ دانشمندانہ اور بر وقت ہے جو مرحوم رہنما علی خامنہ ای کی وفات کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی، ایرانی خبررساں ادارے کا دعویٰ
نئی قیادت کا اثر
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کے تحت ایران میں قومی اتحاد مضبوط ہو گا اور ملک اپنے دشمنوں کی سازشوں کا مؤثر مقابلہ کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک بچے کی تلاش کیلئے چوتھے روز بھی آپریشن جاری
ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت
ان کا مزید کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب قومی اتحاد اور ارادے کی مضبوطی ہے، فیصلہ ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ رِدھی ڈوگرا کے فواد خان کے ساتھ اپنی فلم کے حوالے سے اہم انکشافات
علی خامنہ ای کی وراثت
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ علی خامنہ ای کی قیادت نے ایران کے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھی ہے جس پر اب مزید سائنسی، تکنیکی اور معاشی ترقی ممکن ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پناہ گزینوں کی احتجاج میں شرکت، افغان سفارتخانے کا جواب آ گیا
پاسدارانِ انقلاب کا اقدام
دوسری جانب، ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے نئی قیادت کے اعلان کے فوراً بعد ’علی ولی اللّٰہ‘ نامی آپریشن کے تحت میزائلوں اور ڈرونز کی نئی کھیپ داغنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بننا معجزہ تھا، قائد اعظم کو2 بار روتے دیکھا، شاید انہیں اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت اور قتل و غارت کا اندازہ نہ تھا ورنہ ضرور اس کا بندوبست کرتے
حملے کی تفصیلات
ایرانی فوج کے مطابق، حملوں میں خرمشہر، فتاح اور خیبر نامی بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
وفاداری کا اظہار
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک میزائل کی تصویر بھی جاری کی ہے جس پر فارسی میں ’لبیک یا سید مجتبیٰ‘ لکھا ہوا تھا، جسے نئی قیادت کے ساتھ وفاداری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








