انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی
انڈونیشیا میں سوشل میڈیا پابندی
جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔
پابندی کا اعلان
تفصیلات کے مطابق 6 مارچ کو انڈونیشیا کی ڈیجیٹل افیئرز کی وزیر Meutya Hafid نے 16 سال سے کم عمر سوشل میڈیا صارفین پر پابندی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ یہ پابندی 28 مارچ سے لاگو ہوگی۔
بچوں کو درپیش خطرات
''جنگ'' کے مطابق، انڈونیشین وزیر نے کہا کہ آن لائن بد زبانی، نامناسب مواد، آن لائن فراڈ اور سوشل میڈیا کی لت وغیرہ بچوں کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔ 28 مارچ سے، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، اور دیگر زیادہ خطرات والے پلیٹ فارمز میں بچوں کے اکاؤنٹس کو ڈی ایکٹیویٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔
مزید تفصیلات کا انتظار
البتہ انڈونیشین حکومت نے ابھی تک اس پابندی کے اطلاق کے طریقہ کار کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
سماجی میڈیا کی پابندیاں
واضح رہے کہ آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے 2025 کے آخر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی。








