ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کی پانچ ارکان کو آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دے دیے گئے۔
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی محفوظ منتقلی
سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کی پانچ ارکان کو آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دے دیے گئے ہیں، کیونکہ گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان کی حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی کابینہ نے آپریشن کی منظوری دی تھی، نقل مکانی کے پروسیجر کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے، ثمر ہارون بلور
تنقید اور حفاظتی اقدامات
قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان کھلاڑیوں پر ایران میں شدید تنقید کی گئی تھی۔ آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر ٹونی برک نے کہا کہ ’ان خواتین کو آسٹریلوی پولیس کی جانب سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘ ان کے مطابق ٹیم کی دیگر کھلاڑیوں کو بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ملک میں رہنا چاہیں تو انھیں بھی یہ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود کھیلوں میں سعودی عرب کا بڑھتا اثر و رسوخ: 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی میں کامیابی کے عوامل کیا ہیں؟
کھلاڑیوں کی شناخت
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ سب سیاسی کارکن نہیں بلکہ صرف کھلاڑی ہیں جو اپنی حفاظت کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔‘
بات چیت کا عمل
ٹونی برک نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر کئی دنوں سے بات چیت جاری تھی۔








