امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
ایران کے وزیرِ خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کو بھینسوں کے گوبر پر ٹیکس کی مد میں ساڑھے 4کروڑ روپے ماہانہ آمدن ہوگی، شہزاد اکبر
میزائل حملوں کی تیاری
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی براستہ بٹھنڈہ
سپریم لیڈر کے مشیر کا مؤقف
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے سماجی تحفظ و سروسز کیلئے 33کروڑ ڈالر کا قرض منظور کرلیا
پاسداران انقلاب کا اعلان
علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے، امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔
ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ جو ملک اسرائیلی وامریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔








