وراثتی جائیداد کے تنازع پر بیوہ خاتون کا قتل؛ ملزمان 11برس بعد بری، عمر قید کی سزا کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے وراثتی جائیداد کے تنازع پر بیوہ خاتون کو قتل کرنے کے مقدمے سے ملزمان کو 11 برس بعد بری کر دیا اور عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی خواہش ہے زیادہ سے زیادہ طلبا تک لیپ ٹاپس پہنچیں تاکہ وہ جدید تعلیم اور تحقیق سے ہم آہنگ ہو سکیں، اعظم نذیر تارڑ
تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جسٹس عبہر گل خان نے افضال سمیت 2 ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق قتل کے واقعے کی جگہ سے تھانہ 19 کلومیٹر دور تھا۔ مقتولہ کے بھائی نے پولیس کو موبائل فون پر واقعہ بتانے کی بجائے خود جا کر رپورٹ لکھوائی۔ حیران کن ہے کہ فون ہونے کے باوجود بھائی لاش وہیں چھوڑ کر 19 کلومیٹر دور تھانے گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑیگا: اعظم نذیر تارڑ
فیصلہ اور دلائل
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم 9 گھنٹے کی تاخیر سے کیا گیا، ایسی تاخیر سے پراسیکیوشن کا کیس کمزور ہوتا ہے۔ چشم دید گواہوں کے بیانات میں بہت سے تضاد پائے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون ہے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں کوئی بھی شک ہو، اس کا فائدہ ملزم کو ہوگا۔ ملزمان کسی اور مقدمے میں ملوث نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔
پس منظر
یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 2020 میں ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔








