آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا، قطری وزارت خارجہ
قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کے شروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اوکاڑہ میں ٹرالر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، باپ، 2 بیٹے اور بیٹی جاں بحق
رابطوں کے ذرائع
ترجمان نے کہا کہ قطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پر کوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل عاصم منیر جب کیڈٹ تھے تو پاکٹ سائز قرآن پاک ٹوپی میں رکھ کر ٹریننگ کرتے تھے،، بھارتی میڈیا کا انکشاف
محسوس کی جانے والی تبدیلیاں
ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر، یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا وینزویلا پر حملے کا فیصلہ
جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان
ترجمان نے کہا کہ قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا۔
قطر کا مؤقف
ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔








