آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا، قطری وزارت خارجہ
قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کے شروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی حملہ کیس، پی ٹی آئی کے 18 غیرحاضر ملزمان اشتہاری قرار، جائیداد ضبط کرنے حکم
رابطوں کے ذرائع
ترجمان نے کہا کہ قطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پر کوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو بہتر علاج کیلئے لندن منتقل کرنے کا فیصلہ
محسوس کی جانے والی تبدیلیاں
ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر، یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار کی بطور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔
جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان
ترجمان نے کہا کہ قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا۔
قطر کا مؤقف
ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔








