پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے بحریہ کی سکیورٹی اسکواڈ تعینات کر دی، بین الاقوامی میڈیا کا دعویٰ
پاکستان کا اہم اقدام
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان نے اپنی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ پاکستان نیوی نے سمندری تجارتی راستوں اور آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لیے بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح ہے، بلوچ عوام کے حقوق اور ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، چودھری شجاعت حسین
خبریں اور تجزیہ
برطانوی جریدے ڈیلی میل کے مطابق، پاکستان نے خلیج میں آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز بھیج دیے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سمندری جہازوں کی آمدورفت کو جاری رکھنا اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔ پاکستان خلیجی ممالک کے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث، گزشتہ ہفتے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو گیا، جس کے بعد مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
آپریشن محافظ البحر
گزشتہ روز پاکستان نیوی نے “آپریشن محافظ البحر” شروع کیا ہے جس کا مقصد اہم سمندری راستوں کو محفوظ بنانا اور ملک تک توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس آپریشن کے تحت بحری جہاز تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرتے ہوئے ان کی بحفاظت آمدورفت یقینی بنا رہے ہیں۔
توانائی کی ضروریات اور سمندری راستوں کی اہمیت
حکام کے مطابق، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک کے تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے، جبکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے سمندری راستوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے。








