امریکی کنسلٹنٹس انسپکشن کے لیے آئے، فیلڈ میں جا کر کام کرتے رہے، ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 82

امریکیوں کا دورہ اور ہماری پریشانی

1960ء میں امریکن ایڈ کے تحت "واپڈا" میں ایک نیا شعبہ گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (GWDO) کے نام سے وجود میں آیا۔ اس کے ساتھ امریکہ سے سروے سے متعلقہ کافی ساز و سامان جیسے Willey Jeeps (4 wheel Drive)، سوئیل ٹیسٹنگ کٹس، فیلڈ ڈیوٹی کے لیے آفیسر ٹینٹس، اور عوامی خدمات کے کمیشن کے ذریعے متعدد سینئر اور جونیئر افسران کا تقرر بھی ہوا۔

"جولمبو پلان" کے تحت لی گئی ایریل فوٹوگرافی سے زمینی تصویر کشی کے ذریعے سروے کا آغاز ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ پنجاب میں پتہ چلایا جائے کہ کتنا ایریا "Water Logged" ہو چکا ہے اور کتنا "Salive" ہو کر بنجر ہو چکا ہے۔ مزید برآں، یہ جاننا بھی تھا کہ زیر زمین پانی کی سطح کہاں موجود ہے۔ اس طرح تقریباً 10 فیلڈ پارٹیز کے ذریعے یہ سروے شروع کیا گیا۔ یہ فیلڈ پارٹیز عمومی طور پر محکمہ نہر کے ریسٹ ہاؤسز میں قیام کر کے فیلڈ ڈیوٹی انجام دیتیں۔ کام یہ غالباً چار یا پانچ سال تک جاری رہا۔

پھر کچھ امریکی کنسلٹنٹس، جن کی سربراہی ایک امریکی "Mr. Burt Son" نے کی، ہمارے پاس پنجاب میں ایک ریسٹ ہاؤس میں انسپکشن کے لیے آئے۔ انہوں نے دو تین دن وہاں قیام کیا اور ہمارے ساتھ فیلڈ میں جا کر کام کیا۔ اس دوران ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری فیلڈ ڈیوٹی بھی بڑی مشقت طلب تھی۔

صبح ملاقات ریسٹ ہاؤس کے سنٹر ٹیبل پر ہوتی جہاں پراٹھے، آملیٹ، چکن اور سبزی کا سالن، اور کبھی کبھی جیم ڈبل روٹی بھی شامل ہوتی۔ بعد میں چائے کا دور چلتا۔ فیلڈ ڈیوٹی پر جانے والے ایک بھرپور ناشتہ کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک مشقت طلب کام ہے۔ ہم نے دیکھا کہ امریکی بالکل ہی بے توجہی سے ناشتہ کرتے ہیں اور تھوڑا تھوڑا کھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

فیلڈ افسران آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور جلدی چل رہے ہیں، لیکن کھانے میں ہی بہت کم لیتے ہیں، تو یقیناً انہیں کمزوری لاحق ہو جانی چاہیے۔ تاہم، اس سلسلے میں کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

آخرکار ان کی روانگی کا وقت آیا اور وہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے گئے، جبکہ ہم آرام سے بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے۔ ہمارے ایک ساتھی کا جو دوسرے بیڈ میں جانے کا اتفاق ہوا، پتہ چلا کہ وہاں ایک بڑا انبار خالی "Tins" کا لگا ہوا ہے۔ تو ہمیں سمجھ میں آیا کہ ہم بے وجہ پریشان تھے، وہ بیڈ سے ہی کھا پی کر آتے تھے۔

ایک منفرد تیتر کا شکار

1960ء کی دہائی میں "واپڈا" میں امریکی امداد سے بنی گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہم دور دراز علاقوں میں سوئل سروے کرتے تھے۔ دن میں گرمی ہو یا سردی، 102 میل پیدل، لیبر کے ساتھ چل کر زمینی تحقیق کرنا ہوتی تھی۔ ابتدائی میری نوکری کے بارہ سال "رانجن" کی طرح دیکھنے، سننے، اور جھیلنے کے مشکل تھے۔ لیکن یاد رکھیں، بھرپور جوانی ہو، کوئی فکر و فاقہ نہ ہو۔ یہ گرمیوں کی جھلستی لوئیں اور جاڑوں کی ٹھٹھرتی صبحیں بھی ان دنوں ایک انجانا سا کیف و سرور فراہم کرتی تھیں۔

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...