مشرق وسطیٰ کشیدگی میں عمران خان کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے؛حبیب اکرم
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی میں عمران خان کی کمی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کار حبیب اکرم نے مشرق وسطیٰ کشیدگی پر کہا ہے کہ یہ ایسا نازک موقع ہے کہ عمران خان کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان ایران اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ تہذیبی اور سیاسی مفادات کیلئے کوئی راستہ نکل آئے تو پاکستان نہیں پورے خطے کیلئے خوش کن ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان امن کے سفیر بن کر ریاض، تہران، کابل اور واشنگٹن جائیں، ان کے پیچھے قوم اپنی دانش اور قوت کے ساتھ کھڑی ہو، تو پاکستان امن کا معجزہ برپا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا ذوالفقار بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو 2ہفتوں میں ایم ڈی کیٹ امتحان لینے کا حکم
ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد کی صورتحال
معروف صحافی نے اپنی ویڈیو میں موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے پاکستان میں غم و غصہ کی وہی فضا قائم کردی ہے، جو ایران میں ہے۔ اس فضامیں وہ سیاسی ماحول بنا ہے جس میں سعودی عرب سے پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک نئی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کسی درجے میں پابند ہے کہ وہ سعودی عرب پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب دے۔
یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیش گوئی کردی
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ملاقات
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات کرنے کیلئے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان میں ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ اس ملاقات میں سفارتی انداز میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے سعودی سرزمین پر حملوں کا جواب دے یا رکوائے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ ہر جنگ جہاں لڑنے والے فریقوں کا حق انتخاب وسیع کر دیتی ہے، وہیں غیرجانبداروں کا حق انتخاب محدود ہو جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت اسی صورتحال سے گزر رہا ہے، ہر طرف جذبات بھڑکے ہوئے ہیں اور خدشہ یہ ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے شعلے ہماری طرف نہ آ جائیں۔ ان سے بچنے کیلئے ہر کوشش پاکستان کو کرنی چاہئے، لیکن اس معاملے میں یاد یہ رکھنا ہے کہ یہ کوئی دو سادہ اشیا میں ایک لینے کی بات نہیں ہو رہی، اس فیصلے کے ساتھ ہزاروں چھوٹے بڑے امکانات اور اندیشے جڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی پی ٹی ایم جلسے میں شرکت پر پابندی لگا دی
معاشی امداد اور سفارتی کوششیں
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ سیدھی سی بات ہے ہم نے ایک طرف افغانستان کے ساتھ محاذ کھول رکھا ہے اور ایران کے ساتھ الجھنا ایک دورازکار بات ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب سے آنے والی معاشی امداد پاکستان کی معیشت کو رواں رکھنے کیلئے اہم ہے۔ اگر یہ بند ہو تو اس کے الگ مسائل ہیں، ایسے میں پہلا قدم سر جوڑ کر صلاح مشورہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے پشاور زون کی کارروائی، حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں روپے برآمد
عمران خان کے امن کے سفیر بننے کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا نازک موقع ہے کہ عمران خان کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان ایران اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ تہذیبی اور سیاسی مفادات کیلئے کوئی راستہ نکل آئے تو پاکستان نہیں پورے خطے کیلئے خوش کن ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان امن کے سفیر بن کر ریاض، تہران، کابل اور واشنگٹن جائیں، ان کے پیچھے قوم اپنی دانش اور قوت کے ساتھ کھڑی ہو، تو پاکستان امن کا معجزہ برپا کر سکتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ مشترکہ تہذیب و ثقافت رکھنے والے ملکوں میں سے کسی ایک پر مصیبت آئے تو اس کے اثرات دوسروں پر نہ پڑیں۔ ایران کی جنگ کے شعلوں سے بچنے کا راستہ صرف یہی ہے کہ ہم ایران میں آگ بجھانے کی کوشش کریں، یہ کوشش کرنے کیلئے دل و دماغ کھولیں۔
سعودی عرب کی مطالبہ
سعودی عرب نے پاکستان کو کہا ہے یا تو ایران کے حملے کا جواب دے یا پھر ان حملوں کو رکوائے۔ یہ ایسا نازک موقع ہے کہ عمران خان کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ کابل، تہران، ریاض اور واشنگٹن جائیں اور قوم ان کے پیچھے کھڑی ہو تو پاکستان امن کا معجزہ برپا کر سکتا ہے،… pic.twitter.com/Z4zFB8CkgP
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) March 10, 2026








